پاکستان میں سعودی عرب کے اشتراک سے سے گو اے آئی ہب کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
اسلام آباد میں پاکستان اور سعودی عرب کے اشتراک سے گو اے آئی ہب پاکستان کا افتتاح کردیا گیا ہے۔
گو اے آئی ہب کا قیام ڈیجیٹل تعاون کو فروغ دینے کی سمت ایک تاریخی پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔ پیش قدمی وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن اور سعودی کمپنی “گو ٹیلی کام” کے اشتراک سے شروع کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل نے اس اہم شراکت داری کو عمل میں لانے کےلئے کلیدی کردار ادا کیا۔ افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور سی ای او گو ٹیلی کام یحییٰ بن صالح المنصور نے شرکت کی۔
تقریب میں ایس آئی ایف سی کے سینئر حکام اور پاکستان کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔ یحییٰ بن صالح المنصور نے پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے طویل المدتی تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔ معاہدہ وزیراعظم کے حالیہ دورۂ ریاض کے دوران طے پانے والے معاہدوں کا ایک تسلسل ہے۔
تقریب میں مفاہمتی یادداشتوں میں ڈیٹا سینٹر، اے آئی انفراسٹرکچر اور ٹیلنٹ ہب کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔ ایس آئی ایف سی اور وزارتِ آئی ٹی نے دوطرفہ ارادوں کو عملی شراکت داریوں میں بدلنے کی نئی مثال قائم کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اے آئی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔