ملک میں سب کچھ عاصم لاءکےتحت ہو رہا ہے،عمران خان
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
راولپنڈی: عمران خان کا کہنا ہے کہ تاریخ سے ثابت ہے کہ ملٹری ڈکٹیٹرز کا صرف بندوق کے زور پر ہر چیز کا حل نکالنے کا فارمولہ کبھی دیرپا اور کامیاب ثابت نہیں ہوا۔
افغانستان کے ساتھ مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہے، لہذا یہ سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملہ فہمی سے ملک میں دیرپا امن کا قیام یقینی بنائیں۔
اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے تفصیلی پیغام میں کہا ہے کہ میں سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ بننے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
سہیل آفریدی میرے آئی ایس ایف کے دیرینہ اور وفادار ساتھیوں میں سے ہیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ وہ توقعات اور تحریک انصاف کے نظریے کے عین مطابق، بحیثیت چیف منسٹر خیبرپختونخوا میں انقلابی کام کریں گے۔
میں گزشتہ دو سال میں ہونے والے قتلِ عام کے چار بڑے واقعات جن میں 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے قتلِ عام شامل ہیں، پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ دہراتا ہوں۔
ان تمام واقعات میں بڑی تعداد میں نہتے شہریوں کو شہید کیا گیا۔ 9 مئی فالس فلیگ کے حوالے سے میرا شروع سے یہی موقف ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کی جائے اور آزادانہ و شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔
افسوس ہے کہ کوئی عملدرآمد نہیں ہوا بلکہ الٹا متاثرہ فریق کیخلاف ہی جھوٹے مقدمات بنا کر بغیر شفاف تحقیقات اور ثبوت کے ملٹری کورٹس اور کینگرو کورٹس سے 10، 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں، حالانکہ اس دن نہتے شہریوں اور سپورٹرز کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ قتلِ عام کی یہی واردات 26 نومبر کو دہرائی گئی جب نہتے پرامن مظاہرین پر سیدھی گولیاں برسائی گئیں۔
آج ملک میں سب کچھ عاصم لاءکے تحت ہو رہا ہے۔ ساری عدالتیں فوجی عدالتوں میں بدل چکی ہیں، جیسے فوجی عدالتوں کو چلایا جاتا ہے ویسے ہی عام عدالتوں کو بھی چلایا جا رہا ہے۔
26ویں غیر آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں سے انصاف کی توقع تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ملک میں بڑھتی لاقانونیت اور ناانصافی اسی ترمیم کا نتیجہ ہے- جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس امین الدین، جج عامر فاروق، اور جج ڈوگر سب کے پاس ہمارے کیسز اور پٹیشن گئیں مگر کہیں سے انصاف نہیں ملا۔
عاصم منیر، قاضی فائز عیسٰی اور سکندر سلطان راجا نے ہمارا مینڈیٹ چوری کر کے فارم 47 کی نااہل اور ناجائز حکومت پاکستان پر مسلط کی جن کے پاس پاکستان کو درپیش مسائل سے نکالنے کا نہ ہی کوئی وژن ہے، نہ اہلیت ہے اور نہ ہی کوئی اختیار۔
ان کی دہشتگردی کے مسئلے، امن کے قیام اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی اپنی کوئی سوچ اور پالیسی نہیں ہے۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ ملٹری ڈکٹیٹرز کا صرف بندوق کے زور پر ہر چیز کا حل نکالنے کا فارمولہ کبھی دیرپا اور کامیاب ثابت نہیں ہوا۔ افغانستان کے ساتھ مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہے۔ لہذا یہ سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملہ فہمی سے ملک میں دیرپا امن کا قیام یقینی بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ملک میں
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔