Daily Mumtaz:
2026-07-24@02:00:55 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل پہنچ گئے

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل پہنچ گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کو اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔ ان کی آمد غزہ جنگ بندی معاہدہ طے ہونے کے چند دن بعد ہوئی ہے جبکہ حماس نے اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنا شروع کر دیا ہے۔

بین گوریون بین الاقوامی ایئرپورٹ پر اترنے سے پہلے صدارتی طیارے ایئر فورس ون نے تل ابیب کے ہوسٹجز سکوائر پر پرواز کی جہاں دسیوں ہزار لوگ جمع تھے۔

یہ پرواز غزہ سے ابتدائی سات قیدیوں کے اسرائیل پہنچنے کے فوراً بعد ہوئی اور بظاہر اسرائیلیوں کی حمایت کا واضح پیغام تھی۔

ٹرمپ پیر کو بعد ازاں اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرنے والے ہیں۔ اسرائیل کے صدر اسحاق ہرتصوغ نے کہا ہے کہ انہیں اس سال کے آخر میں اسرائیل کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازا جائے گا۔

اتوار کو واشنگٹن سے اسرائیل کے لیے پرواز کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں سوار صحافیوں کو بتایا، “جنگ ختم ہو چکی ہے۔”

اس کے بعد امریکی صدر مصر جائیں گے جہاں وہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ہمراہ شرم الشیخ میں غزہ امن اجلاس کی صدارت کریں گے۔

اسرائیل پہنچنے پر ٹرمپ کا استقبال صدر ہرتصوغ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کیا۔

اس موقع پر امریکی سفیر سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اور ٹرمپ کی صاحبزادی ایوانکا بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل