اسلام آباد:

غیروابستہ ممالک کی تحریک کے 19 ویں وسط مدتی وزارتی اجلاس میں پاکستان کے مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے ادا کیے گئے کردار کو سراہا گیا اور غیر ملکی قبضے کے تحت رہنے والی اقوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستان نے غیر وابستہ ممالک کی تحریک کے 19ویں وسط مدتی وزارتی اجلاس میں شرکت کی جو 15 اور 16 اکتوبر 2025 کو یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں منعقد ہوا اور اس کا موضوع "مشترکہ عالمی خوش حالی کے لیے تعاون کو فروغ دینا" تھا۔

ترجمان دفترخارجہ نے بتایا کہ اجلاس سے قبل 13 اور 14 اکتوبر کو سینئر حکام کا اجلاس بھی منعقد ہوا، پاکستانی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے اسپیشل سیکریٹری (اقوام متحدہ) نبیل منیر نے کی اور انہوں نے وزارتی اجلاس کے عمومی اجلاس میں پاکستان کا قومی بیان پیش کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ موجودہ عالمی چیلنجز کے دوران امن و ترقی کے فروغ کے لیے غیر وابستہ تحریک  کے اہم کردار کو اجاگر کیا گیا، جموں و کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ تنازعات کے حل کی ضرورت پر زور دیا گیا  اور موسمیاتی بحران کے اثرات سے نمٹنے میں ترقی پذیر ممالک کی مشکلات کو نمایاں کیا۔

نبیل منیر نے غیر وابستہ تحریک کے اس اصولی مؤقف کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا کہ غیر ملکی قبضے کے تحت رہنے والی اقوام کو اپنے حق خود ارادیت کا حق حاصل ہے اور انہوں نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحان اور جنوبی ایشیا میں جنگی بیانات کی مذمت کی۔

ترجمان نے بتایا کہ اجلاس کے موقع پر اسپیشل سیکریٹری نبیل منیر نے یوگنڈا کے وزیر خارجہ اودونگو جے جے ابو بکر سمیت متعدد رکن ممالک کے رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔

دفترخارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ کمپالا ڈیکلریشن اور ایک جامع اعلامیے کی منظوری کے ساتھ ہوا جس میں مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزارتی اجلاس کردار کو کے لیے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار