غیروابستہ ممالک تحریک کا وزارتی اجلاس، مشرق وسطیٰ میں امن کیلئےپاکستان کے کردار کو سراہا گیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
غیروابستہ ممالک کی تحریک کے 19 ویں وسط مدتی وزارتی اجلاس میں پاکستان کے مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے ادا کیے گئے کردار کو سراہا گیا اور غیر ملکی قبضے کے تحت رہنے والی اقوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستان نے غیر وابستہ ممالک کی تحریک کے 19ویں وسط مدتی وزارتی اجلاس میں شرکت کی جو 15 اور 16 اکتوبر 2025 کو یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں منعقد ہوا اور اس کا موضوع "مشترکہ عالمی خوش حالی کے لیے تعاون کو فروغ دینا" تھا۔
ترجمان دفترخارجہ نے بتایا کہ اجلاس سے قبل 13 اور 14 اکتوبر کو سینئر حکام کا اجلاس بھی منعقد ہوا، پاکستانی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے اسپیشل سیکریٹری (اقوام متحدہ) نبیل منیر نے کی اور انہوں نے وزارتی اجلاس کے عمومی اجلاس میں پاکستان کا قومی بیان پیش کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ موجودہ عالمی چیلنجز کے دوران امن و ترقی کے فروغ کے لیے غیر وابستہ تحریک کے اہم کردار کو اجاگر کیا گیا، جموں و کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ تنازعات کے حل کی ضرورت پر زور دیا گیا اور موسمیاتی بحران کے اثرات سے نمٹنے میں ترقی پذیر ممالک کی مشکلات کو نمایاں کیا۔
نبیل منیر نے غیر وابستہ تحریک کے اس اصولی مؤقف کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا کہ غیر ملکی قبضے کے تحت رہنے والی اقوام کو اپنے حق خود ارادیت کا حق حاصل ہے اور انہوں نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحان اور جنوبی ایشیا میں جنگی بیانات کی مذمت کی۔
ترجمان نے بتایا کہ اجلاس کے موقع پر اسپیشل سیکریٹری نبیل منیر نے یوگنڈا کے وزیر خارجہ اودونگو جے جے ابو بکر سمیت متعدد رکن ممالک کے رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔
دفترخارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ کمپالا ڈیکلریشن اور ایک جامع اعلامیے کی منظوری کے ساتھ ہوا جس میں مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزارتی اجلاس کردار کو کے لیے
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔