سپریم جوڈیشل کونسل کا اہم اجلاس، شکایات پر آئینی اور قانونی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
سپریم جوڈیشل کونسل کا اہم اجلاس چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں شروع ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت دائر کی گئی مختلف شکایات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ سے متعلق امور پر بھی غور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: کیا جسٹس طارق محمود جہانگیری سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی سے بچ پائیں گے؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران کونسل کو موصول ہونے والی شکایات پر آئینی اور قانونی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جبکہ ممکنہ سفارشات آئندہ اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل ججوں کے احتساب کے لیے قائم ادارہ ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کا احتساب کرتا ہے اور ججوں کے خلاف شکایات کا یہ واحد فورم ہے۔
مزید پڑھیں: کیسے طے کرلیا گیا کہ جسٹس طارق محمود کی ڈگری جعلی ہے؟ ڈاکٹر ریاض نے سوالات اٹھا دیے
طریقۂ کار کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل اگر کسی جج کو مِس کنڈکٹ کا مرتکب پائے تو وہ صدر پاکستان کو اُن کو ہٹانے کی سفارش کرتی ہے جیسا کہ گزشتہ برس مارچ میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف کیا گیا اور اُن کو اپنے عہدے سے ہٹایا گیا۔
آئین کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل جو چیف جسٹس اور سینیئر ججز پر مشتمل ہوتی ہے، ججوں کو صرف یہی ادارہ ہٹا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اجلاس ججز جوڈیشل کونسل سپریم کورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اجلاس جوڈیشل کونسل سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ