قیام پاکستان سے اب تک افواجِ پاکستان نے قوم کی مکمل حمایت کے ساتھ وطن عزیز کے بیرونی اور اندرونی دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان ملٹری اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
کاکول (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 اکتوبر2025ء) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے قیام سے اب تک، افواجِ پاکستان نے قوم کی مکمل حمایت کے ساتھ، وطن عزیز کے بیرونی اور اندرونی دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، ہم وردی میں ملبوس لوگ ہمیشہ پاکستان کے عوام اور ریاست کی ترقی اور خوشحالی اور اس عظیم ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور تیار رہیں گے، حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے عددی طور پر بڑے دشمن کے خلاف اپنی واضح فتح کی بدولت نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ عالمی برادری کا وقار اور داد حاصل کی، اگر دوبارہ جارحیت کی کوشش کی گئی تو پاکستان دشمن کی توقعات سے کہیں زیادہ سخت جواب دے گا، دشمن کو پہنچائے جانے والے فوجی و اقتصادی نقصانات بھارت کی توقعات سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہوں گے، افغانستان میں موجود پراکسیاں پاکستان کے اندر گھناؤنے حملے کرنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کر تی ہیں، پاکستان ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ کرنا میرے لیے انتہائی اعزاز اور باعث فخر ہے، پاکستان کا پرچم انشاء اللہ بلند رہے گا کیونکہ اس کی محافظ پاکستانی قوم ہے جو کبھی ناکام نہیں ہوتی، پاکستان کے چین ، امریکہ اور اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں، پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی موقف پر ثابت قدم ہے، حالیہ معاہدہ کے بعد توقع ہے کہ فلسطینی اپنے وطن میں امن سے رہ سکیں گے۔
(جاری ہے)
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (نشان امتیاز ملٹری، ہلالِ جرات ) ہفتہ کو یہاں پاکستان ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کر رہے تھے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے تاریخی اور غیر مبہم خطاب میں کہا کہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ کرنا میرے لیے انتہائی اعزاز اور باعث فخر ہے، میں بنگلہ دیش، عراق، مالی، مالدیپ، نائیجیریا، نیپال، فلسطین، قطر، سری لنکا اور یمن سے تعلق رکھنے والے کیڈٹس کو بھی اس عظیم ادارے سے تربیت مکمل کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، پاکستان کے قیام سے اب تک، افواجِ پاکستان نے قوم کی مکمل حمایت کے ساتھ، وطن عزیز کے بیرونی اور اندرونی دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ حالیہ آپریشن ’’معرکۂ حق/ بنیان مرصوص‘‘ میں افواجِ پاکستان نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت اور عزم سے دشمن کو شکست دے کر قوم کا اعتماد مزیدمستحکم کیا ہے، ازلی دشمن کے خلاف انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کارروائیاں کرتے ہوئے رافیل طیاروں کو مار گرایا گیا، دشمن کی متعدد بیسز بشمول ایس-400 سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا اور پاکستان نے ملٹی ڈومین وارفیئر کی صلاحیتوں کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا ۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ اللہ کے فضل اور قومی عزم کے ساتھ، ہم نے من حیث القوم متحد ہو کر فولادی دیوار کی مانند دشمن کا مقابلہ کیا، پاکستان نے ایک بار پھر ایک ایسے دشمن کے خلاف کامیابی حاصل کی جو اپنی گمراہ کن بالادستی کے غرور میں مبتلا تھا، بھارت نے جلد بازی میں الزام تراشی کی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات سے گریز کیا، بھارت کا خود ساختہ شواہد پیش کرنا اس بات کی علامت ہے کہ بھارتی حکمران جماعت نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے دہشت گردی کو سیاسی رنگ دیا ۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان نے عددی طور پر بڑے دشمن کے خلاف اپنی واضح فتح کی بدولت نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ عالمی برادری کا وقار اور داد حاصل کی، نوجوانوں میں یہ اعتماد بھی مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج قومی طاقت کا ایک بنیادی ستون ہیں۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ وہ قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ انشاء اللہ، ہم اس مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں ہونے دیں گے، میں نہایت فخر کے ساتھ پاکستانی عوام کے حوصلے کو سلام پیش کرتا ہوں، ہر سپاہی، سیلر، فضائیہ کے جوانوں، بہادر مرد، خواتین، بچے اور بزرگ جنہوں نے ان کٹھن حالات میں اپنی جانوں کا نذرانہ دیا انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں،اُن غازیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے یہ جنگ لڑی ، قومی قیادت، بیوروکریسی، علما، سائنسدان، میڈیا اور تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ ہم شہداء اور ان کے اہلِ خانہ کے بے حد شکر گزار اور مقروض ہیں، جن کی قربانیوں کی بدولت آج ہم آزادی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل نے پاس آئوٹ ہونے والے کیڈٹس سے کہا کہ آپ شہداء کے وارث ہیں، اپنی زندگی کو ان کی قربانیوں کے شایانِ شان بنائیں، آپ کو فخر ہونا چاہیے کہ آپ دنیا کی ایک عظیم اور باوقار فوج کا حصہ بننے جا رہے ہیں، جو کسی سے کم نہیں، یاد رکھیں، ہمارے دشمن اپنے مذموم مقاصد کے لیے ہمارے عوام اور مسلح افواج کے درمیان دراڑ ڈالنے پر تلے ہوئے ہیں۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کا دفاعی نظریہ کریڈیبل ڈیٹرنس اور دائمی تیاری پر مبنی ہے، جس میں تمام صلاحیتوں کا احاطہ کیا گیا ہے، دو دہائیوں تک سب کنو نشنل میدانِ جنگ میں آزمودہ یہ پیشہ ور فوج روایتی میدان میں بھی، دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر، اپنی صلاحیتیوں کا لوہا منوا چکی ہیں ۔ فیلڈ مارشل نے خبردار کیا کہ اگر دوبارہ جارحیت کی کوشش کی گئی تو پاکستان دشمن کی توقعات سے کہیں زیادہ سخت جواب دے گا، جنگ میں ہمارے ہتھیار دور تک پہنچ کر زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہوئے بھارت کی جغرافیائی وسعت کا من گھڑت حفاظتی تصور ختم کر دیں گے، دشمن کو پہنچائے جانے والے فوجی و اقتصادی نقصانات بھارت کی توقعات سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہوں گے،میں بھارتی فوجی قیادت کو مشورہ دیتا ہوں اور سختی سے خبردار کرتا ہوں کہ نیوکلیئر انوائرمنٹ میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے، پاکستان کے ساتھ بنیادی مسائل کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر حل کریں۔ انہوں نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی بیان بازی سے کبھی خوفزدہ نہیں ہونگے اور کسی بھی قسم کی چھوٹی سی اشتعال انگیزی کا بھی فیصلہ کن جواب دیں گے، آنے والی کشیدگی کی ذمہ داری، جو کہ بالآخر پورے خطے اور اس سے باہر کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے، پوری طرح سے بھارت پر عائد ہو گی، دنیا سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے تشدد کے استعمال، جیسے محرکات کی واضح تبدیلی دیکھ رہی ہے۔ فیلڈمارشل نے کہا کہ پاکستان خطے میں کامیابی سے نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر ابھرا ہے، عالمی طاقتوں بالخصوص مسلم ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں، پاکستان نے مستقل طور پر خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لیے کلیدی کردار ادا کرنے کا ثبوت دیا ہے، ہماری مسلح افواج دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں بڑی تعداد میں شامل ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ حالیہ سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ پاکستان سعودی بھائی چارے کو تقویت دیتا ہے اور باضابطہ بناتا ہے، یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کی جانب ایک قدم ہے، پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کے لیے یہ ایک منفرد عزاز ہے کہ وہ حرمین شریفین کے دفاع کے لیے اپنی خدمات پیش کر سکیں۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے پرامن عمل میں بھی کردار ادا کیا ہے، دیگر تمام مسلم ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات تیزی سے فروغ پا رہے ہیں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں چین کے ساتھ اپنی تاریخی اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری اور دوستی پر فخر ہے، امریکہ کے ساتھ مضبوط اور بڑھتے ہوئے تعلقات کو دوبارہ متحرک کرنا ایک حوصلہ افزا اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے متعدد تنازعات کے شکار علاقوں میں امن قائم کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کی ذاتی کوششیں اور اسٹریٹجک لیڈرشپ واقعی قابل تعریف ہے، ہم امن، سلامتی اور ترقی کے مفاد کے لیے اہم عالمی اور علاقائی رہنماؤں کے ساتھ ان تعلقات کو مزید پروان چڑھائیں گے۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ آپریشن معرکہ حق میں پاکستان کے خلاف اپنی جارحیت میں ناکامی کے بعد بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کو ترجیحی پالیسی کے طور پر جاری رکھے ہوئے ہے، ہمارے دشمن کا فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کو "ہائرڈ گنز" کے طور پر استعمال کرنا اس کے بزدلانہ، منافقانہ اور گھناؤنے چہرہ کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرتا ہے، پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال بھی اتنا ہی پریشان کن ہے، ہم افغانستان کے لوگوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ دائمی تشدد کی بجائے باہمی سلامتی کا انتخاب کریں اور سخت گیر تعصب پر پیش رفت کریں، طالبان حکومت کو ان پراکسیوں پر لگام ڈالنی چاہیے، جن کی افغانستان میں پناہ گاہیں ہیں ، یہ پراکسیاں پاکستان کے اندر گھناؤنے حملے کرنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کر تی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مسلح افواج پاکستان کے بہادر عوام بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کے تعاون سے یقیناً اس لعنت کو بھی شکست دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یقین رکھیں کہ روایتی میدان میں جیت کی طرح ہمارے پڑوسی کی ہر ریاستی پراکسی کو خاک میں ملا دیا جائے گا،ہم اسلام کی غلط تشریح کرنے والے مٹھی بھر گمراہ دہشت گردوں کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ریاستی سرپرستی میں جاری دہشت گردی، جبر اور مظالم کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے، کشمیری عوام کب تک ظلم و جبر کا شکار رہیں گے اور حق خود ارادیت سے محروم رہیں گے، پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی موقف پر ثابت قدم ہے، پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق اس بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ کے حل تک کشمیریوں کی جائز جدوجہد آزادی کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ کہ دنیا نے بالآخر فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت، نسل کشی اور جبری بے گھر ہونے کا نوٹس لیا، اس جنگ کی وجہ سے خواتین، بچوں اور بوڑھوں سمیت ہزاروں بے گناہ فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں، سفارتی میدان میں پاکستان کی مسلسل کوششوں نے غزہ میں امن کے حالیہ اقدام کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، ہمیں امید ہے کہ اس سے خطے میں پائیدار امن اور استحکام آئے گا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان توقع کرتا ہے کہ جنگ بندی جاری رہے گی جس کے بعد غزہ کی انسانی بنیادوں پر امداد اور تعمیر نو کا عمل جاری رہے گا، توقع ہے کہ فلسطین کے لوگ اپنے وطن میں امن سے رہ سکیں گے، تنازعہ کے منصفانہ حل کے لیے پاکستان دو ریاستی حل کی ناگزیریت اور 1967 کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں پر القدس الشریف کے دارالحکومت کی بنیاد پر فلسطین کی ایک آزاد، خود مختار اور قابل عمل ریاست کی ضرورت پر اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سفارتی، اقتصادی اور عسکری کامیابیاں اور صلاحیتیں پاکستان کو انشاء اللہ ترقی کی بلند منزلوں تک لے جائیں گی، یاد رکھیں کہ ہمارا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا، دشمن آج بھی بے چین ہے لیکن ہمارا عزم و ہمت بھی ویسے ہی مضبوط اور پختہ ہے،ہم وردی میں ملبوس لوگ ہمیشہ پاکستان کے عوام اور ریاست کی ترقی اور خوشحالی اور اس عظیم ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور تیار رہیں گے۔ فیلڈ مارشل نے قرآن مجید کی سورۃ الصف کی آیت نمبر 4 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’بے شک اللہ تو ان کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے‘‘۔ فیلڈ مارشل نے جنوری 1948 کے قائد اعظم کے تاریخی ارشادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم سب پاکستانی اور ریاست کے شہری ہیں، ہمیں ریاست کے لیے خدمت، قربانی اور جان دینی چاہیے، تاکہ ہم اسے دنیا کی سب سے شاندار اور خودمختار ریاست بنا سکیں، فتح، بیان بازی سے نہیں بلکہ تربیت، کردار ، مشکلات اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ثابت قدم رہنے سے حاصل ہوتی ہے۔ فیلڈ مارشل نے کیڈٹس سے کہا کہ پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور اخلاقی قیادت کو اپنی شخصیت کی پہچان بنانے پر توجہ مرکوز رکھیں، بدقسمتی سے ’’حقیقت کے بعد کے دور ‘‘میں تصورات حقیقت سے زیادہ وزن رکھتے ہیں اور آدھے سچ حقائق سے زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں، جعلی خبروں اور غلط معلومات پر مشتمل ’’انفارمیشن ڈس آرڈر‘‘ کے ذرائع کا شکار نہ بنیں۔ انہوں نے کہاکہ میرے پیغام کا وسیع تر مقصد ایک یقین دہانی ہے کہ’’پاکستان کی صلاحیت اور بڑھتے ہوئے مقام کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں چیلنجز کا حوصلے اور عزم کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوگا‘‘، یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ملک کو اس کی صحیح منزل کی طرف لے جائیں۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کا پرچم انشاء اللہ بلند رہے گا کیونکہ اس کی محافظ پاکستانی قوم ہے جو کبھی ناکام نہیں ہوتی۔ انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں ایک بار پھر پاس آئوٹ ہونے والے کیڈٹس کو مبارک باد پیش کی ۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان ملٹری اکیڈمی انہوں نے کہا کہ پاسنگ آؤٹ پریڈ کے دفاع کے لیے دشمن کے خلاف کرنے کے لیے پاکستان نے مسلح افواج پاکستان کے انشاء اللہ عوام اور بھارت کی کرتا ہوں رہیں گے دشمن کو کے عوام کے ساتھ اور اس پیش کر اور ان کے بعد دیں گے
پڑھیں:
قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
سائنس دانوں نے پہلی بار قاتل وہیل (اورکا) کے ایک ایسے غیرمعمولی رویے کا مشاہدہ کیا ہے جس میں وہ مردہ سن فش کو زور دار ٹکر مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق محققین بتاتے ہیں کہ یہ عمل یا تو خوراک کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے یا پھر ممکن ہے کہ اورکا محض تفریح کے لیے ایسا کرتی ہوں۔
امریکی غیر سرکاری تنظیم ’بینیتھ دی ویوز‘ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اورکا وہیل سن فش کی دم کو پکڑے ہوئے ہے جبکہ دوسری پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کرتی ہے جس کے نتیجے میں مچھلی کے ٹکڑے بکھر جاتے ہیں۔
محقق کیتھرین آئرس کے مطابق یہ سن فش پہلے ہی مردہ تھی اس لیے یہ شکار کرنے کا عمل نہیں تھا۔
Killer whales: orcas blow fish to bits, study finds.
Video from US-based NGO Beneath The Waves shows an orca holding the tail of a sunfish, while another whale charges with full force into the already dead fish, which explodes into pieces – possibly an attempt to turn the fish… pic.twitter.com/ZK4ZUnSzMH
— AFP News Agency (@AFP) July 23, 2026
انہوں نے بتایا کہ ممکن ہے اورکا وہیل مچھلی کو کھانے میں آسانی کے لیے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر رہی ہوں تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ وہ صرف کھیل رہی ہوں، کیونکہ اورکا وہیل اپنے شکار کے ساتھ کھیلنے کے لیے مشہور ہیں۔
کیتھرین آئرس نے کہا کہ اورکا اکثر اپنے شکار کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اپنے گروہ کے دیگر ارکان خصوصاً بچوں اور کم عمر وہیلوں کے ساتھ بھی بانٹتی ہیں۔
یہ غیرمعمولی مناظر سال 2024 اور سال 2025 کے دوران خلیج کیلیفورنیا میں دو مختلف مواقع پر ریکارڈ کیے گئے جن کی تفصیلات سائنسی جریدے فرنٹیئرز اِن ایتھولوجی میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں پیش کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیے: جرمنی میں ساحل پر پھنسے ہمپ بیک وہیل کو بچانے کی دوڑ، ریسکیو آپریشن جاری
تنظیم اوشن کیئر کے ڈائریکٹر برائے سائنس مارک پیٹر سیمنڈز نے اس رویے کو انسانوں کی اجتماعی دعوتوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے لوگ کھانے کے دوران سماجی روابط بھی قائم رکھتے ہیں اسی طرح اورکا وہیلوں میں بھی خوراک بانٹنے کا عمل سماجی تعلقات کا حصہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شاید یہ اسی طرح ہو جیسے کسی رسمی دعوت میں میزبان گوشت کاٹ کر دوسروں میں تقسیم کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اورکا وہیل دنیا کے ذہین ترین سمندری شکاریوں میں شمار ہوتی ہیں اور شکار کے لیے نہایت پیچیدہ حکمت عملیاں استعمال کرتی ہیں۔
اس سے قبل بھی انہیں برف کے بڑے ٹکڑوں پر موجود سیل مچھلیوں کو گرانے کے لیے اجتماعی طور پر لہریں پیدا کرتے دیکھا جا چکا ہے تاکہ انہیں آسانی سے شکار کیا جا سکے۔
تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی سامنے آ چکا ہے کہ بعض اورکا وہیل مردہ سالمن مچھلیوں کو اپنے سروں پر رکھتی ہیں تاہم اس عجیب رویے کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں: ممبئی ساحل پر پھنسا 26 فٹ لمبا وہیل کا بچہ ریسکیو کے باوجود دم توڑ گیا
گزشتہ سال شائع ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق سیلش سی میں رہنے والی شدید خطرے سے دوچار اورکا وہیلوں کو سمندری گھاس کے ٹکڑے توڑ کر ایک دوسرے کی صفائی اور جسم رگڑنے کے لیے بطور آلے استعمال کرتے بھی دیکھا گیا تھا۔
ویسٹرن آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی سائنس دان ریبی کا ویلارڈ جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں نے کہا کہ یہ مشاہدہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ اورکا وہیل انتہائی ذہین مخلوق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے اس طرح کی تحقیقات لوگوں میں ان طاقتور سمندری شکاریوں کے لیے مزید احترام پیدا کریں گی۔
تحقیق کے مطابق سن فش دنیا کی سب سے بڑی ہڈی والی مچھلیوں میں شمار ہوتی ہے جس کا وزن 2 ہزار کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔ اس کا چپٹا جسم اور منفرد ساخت اسے دیگر مچھلیوں سے ممتاز بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی سمندر میں وہیل اور ڈولفن کی 27 اقسام کی موجودگی خوش آئند ہے، وفاقی وزیر بحری امور
ماہرین نے واضح کیا کہ سن فش عام طور پر اس طرح ٹکڑوں میں نہیں بکھرتی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اورکا وہیل کی ٹکر غیرمعمولی طور پر طاقتور تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اورکا وہیل دلچسپ تحقیق سن فش قاتل وہیل کلر وہیل وہیل پر تحقیق وہیل کی سن فش کو ٹکر