کویت میں ایک ٹریلین کیوبک فٹ گیس کے نئے آف شور ذخائر دریافت
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 18 اکتوبر 2025ء) دارالحکومت کویت سٹی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق کویت آئل کمپنی کی طرف سے بتایا گیا کہ اس خلیجی ریاست کے قریبی سمندری علاقے کی تہہ کے نیچے دریافت کردہ قدرتی گیس کے یہ نئے ذخائر ملکی قدرتی وسائل میں ایک بڑا اضافہ ثابت ہوں گے۔
قومی ملکیت میں کام کرنے والی کویت آئل کمپنی کویت پٹرولیم کارپوریشن (کے پی سی) کا ایک ذیلی ادارہ ہے، جس کی طرف سے بتایا گیا کہ کویتی ''آف شور علاقے میں تیل اور گیس کی تلاش کے دوران قدرتی گیس کے جزہ فیلڈ کے حوالے سے دریافت ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔
‘‘ چالیس مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے گیس کے ذخائرکویت آئل کمپنی (کے او سی) کی طرف سے مزید کہا گیا کہ قدرتی گیس کے یہ ذخائر ایک ایسے گیس فیلڈ میں موجود ہیں، جو 40 مربع کلومیٹر (15 مربع میل) علاقے پر پھیلا ہوا ہے اور ''اب تک کے اندازوں کے مطابق اس گیس فیلڈ میں تقریباﹰ ایک ٹریلین کیوبک فٹ گیس موجود ہے۔
(جاری ہے)
‘‘
ماہرین کی طرف سے اخذ کیے گئے ابتدائی نتائج کے مطابق اس گیس فیلڈ سے حاصل ہونے والی ''روزانہ پیداوار 29 ملین کیوبک فٹ سے زیادہ‘‘ رہے گی۔
کویت بہت تھوڑی آبادی والی خلیج فارس کی ایک ایسی عرب ریاست ہے، جس کے پاس تیل کی دولت تو بےتحاشا ہے مگر ساتھ ہی وہ اپنے ہاں قدرتی گیس کی پیداوار میں اضافے پر بھی تیزی سے کام کر رہی ہے۔
کویت پٹرولیم کارپوریشن کے چیئرمین اور کویتی وزیر تیل طارق سلیمان الرومی نے گیس کے ان نئے ذخائر کی دریافت کو انرجی سکیورٹی اور پیداوار میں اضافے کے قومی اہداف کے حصول میں معاون ''ایک اہم اسٹریٹیجک قدم‘‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا، ''ہم اس وقت پوری کوشش میں ہیں کہ نئے آف شور فیلڈز کو تیزی سے ترقی دے کر انہیں جلد از جلد توانائی کے ذرائع کے قومی پیداواری نظام کا حصہ بنا دیا جائے، جس سے ملکی اقتصادی ترقی میں بھی تیزی آئے گی اور قومی سطح پر روزگار کے بہت سے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔‘‘
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے قدرتی گیس کی طرف سے گیس کے
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔