24 خواجہ سراؤں کی ایک ساتھ خودکشی کی کوشش
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں خواجہ سرا کمیونٹی نے حریف گروپ سے تنازع کے بعد فینائل پی کر خود کشی کی کوشش کی ۔جس کے بعد کم از کم 24 خواجہ سراؤں کو ہسپتال داخل کرایا گیا ہے، بھارتی میڈیا نے واقعے کو اجتماعی خودکشی کی کوشش قرار دے دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی رات پیش آیا اور واقعے کے فوراً بعد تمام افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
مہاراجہ یشونت راؤ ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ اِن چارج ڈاکٹر بسنت کمار نِنگوال کے مطابق تمام خواجہ سراؤں کی حالت اس وقت خطرے سے باہر ہے لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ خواجہ سرا ؤںنے اجتماعی طور پر یہ قدم کیوں اٹھایا۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق واقعہ ایک حریف گروپ کی لیڈر اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ جھگڑے کے بعد پیش آیا۔
اندور کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس (کرائم) راجیش ڈنڈوتیہ نے میڈیا کو بتایا کہ حریف گروپ کی لیڈر کو جمعرات کے روز گرفتار کر لیا گیاہے، اور اس کے ساتھ 3 دیگر ساتھیوں کے خلاف حملے اور بھتہ خوری کے الزامات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق کمیونٹی کے 2 گروپوں کے درمیان تنازع تھا، جب متاثرہ فریق نے کمیونٹی کانفرنس کے لیے جمع کیے گئے چندے میں سے رقم مانگی، تو حریف لیڈر اور اس کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر انہیں دھمکایا اور مارا پیٹا، جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنی جان لینے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق ملزمان کے خلاف ٹرانس جینڈر پروٹیکشن ایکٹ 2019 کی دفعہ 18 اور دھمکانے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ کمیونٹی کے دیگر اراکین بھی ہسپتال پہنچ گئے اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، ایک رکن نے دھمکی دی کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ اپنی جان لے لیں گی۔
رپورٹ کے مطابق خواجہ سراؤں نے ہسپتال میں مٹی کا تیل چھڑک کر خودکشی کی کوشش بھی کی، تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کر کے اسے ناکام بنا دیا۔
اگرچہ بھارت کی سپریم کورٹ نے 2014 میں ایک تاریخی فیصلے کے ذریعے خواجہ سرا افراد کو تیسری جنس کے طور پر قانونی شناخت دے دی تھی، مگر اس کے باوجود یہ برادری بھارتی سماج کے حاشیے پر زندگی گزارنے پر مجبور ہے، اور ان میں سے اکثر جنسی کام، بھیک مانگنے یا معمولی مزدوری پر انحصار کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خواجہ سراو ں کے مطابق کی کوشش
پڑھیں:
فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔
وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔
مزید :