کراچی:

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے کہا ہے کہ 22 اکتوبر کو وفاقی وزارت بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں قومی ہاکی کے حوالے سے اہم فیصلہ متوقع ہے، پاکستان ہاکی فیڈریشن کے نئے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی تشکیل اہم موڑ ہے اور خوساختہ عہدیداروں کو گھر جانا ہوگا۔

کے ایچ اے اسپورٹس کمپلیکس پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی اسپیشل کمیٹی کی رکن شہلا رضا نے کہا کہ پی ایچ ایف کے حوالے سے ہمارے تمام اعتراضات قبول کر لیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ایچ ایف کے خود ساختہ عہدیداروں کو واپس گھروں کو جانا ہوگا۔

قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے ہمارے مؤقف کو تسلیم کر لیا ہے، خود کو فیڈریشن کا صدر کہلوانے والے طارق بگٹی نامزد امیدوار تھے لیکن انہوں نے انتخابات کرانے کی ذمہ داری سے انحراف کرتے ہوئے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور مدت مکمل ہو جانے کے باوجود خود کو غیر قانونی طور پر منتخب کرایا۔

انہوں نے کہا کہ پی ایچ ایف کے حوالے سے پی ایس بی بہت شش و پنج میں تھا، قومی اسمبلی کی جانب سے قائم کردہ اسپیشل کمیٹی میں تمام اعتراضات کو قبول کرلیا گیا ہے، 22 اکتوبر کو وزارت بین الصوبائی کے اجلاس میں ہاکی کے حوالے سے اہم فیصلہ سامنے آنے کی توقع ہے۔

شہلا رضا نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فیڈریشن کو دیے جانے والے 13 کروڑ روپے اور اس سے پہلے ادا کیے جانے والے ڈیڑھ ارب روپے کی رقم کا حساب حاصل کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی کے حوالے سے شہلا رضا نے کہا

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے