سانحہ نیپا پر جامع تحقیقات کیلیے کمیٹی بنا رہے ہیں‘ وزیر بلدیات
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251203-01-6
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ کے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ نیپا چورنگی کے قریب مین ہول میں گر کر کر بچے کی ہلاکت کے واقعے پر جامع تحقیقات کے لیے کمیٹی بنارہے ہیں ، یہ بہت ہی دلخراش واقعہ ہے ،جو بھی غفلت میں ملوث ہوگا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے یہ یقین دہانی منگل کو سندھ اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کی۔ناصر حسین شاہ نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی میں سندھ اسمبلی میں موجود تمام جماعتوںکے نمائندوں اور سینئر افسران کو شامل کیا جائے گا۔ سانحہ نیپا کی کچھ رپورٹس آئی ہیں جن سے ہم مطمئن نہیں ،آئندہ کسی ماں کا گود نہ اجڑے، مین ہول کے ڈھکن چوری ہونے سے متعلق ایک طریقہ بنارہے ہیں ماضی میں بھی اس قسم کے واقعات ہوتے رہے ہیں مگر اس کا مستقل بنیادوں پر سدباب نہیں ہوا جس کی وجہ سے بار بار اس قسم کے دلخراش واقعات رونما ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔