دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہر ٹرین میں 3 جیمرز نصب کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے پاکستان ریلوے کو حساس روٹس پر باقاعدہ گشت کو مزید مضبوط بنانے اور ہر ٹرین میں 3 جیمز نصب کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ مسافروں کو دہشت گرد حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کی عدم موجودگی میں رمیش لال کی زیر صدارت ہوا، جس میں جعفر ایکسپریس حملے، ریلوے کی اراضی پر قبضوں اور کراچی۔پپری فریٹ کوریڈور منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: دشت دھماکے کے بعد متاثرہ ٹریک کی مرمت مکمل، جعفر ایکسپریس سمیت بلوچستان میں ٹرین سروسز بحال
اجلاس کے دوران حکام نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس کو 7 اکتوبر کو سندھ کے سلطان کوٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 5 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں اور ٹریک کو نقصان پہنچا۔ واقعے میں 7 مسافر، جن میں ریلوے کے ملازمین بھی شامل تھے، زخمی ہوئے۔
فریٹ کوریڈور منصوبے سے متعلق بریفنگ میں سیکریٹری ریلوے نے بتایا کہ یہ منصوبہ کیماڑی سے شروع ہو کر کراچی پورٹ کو پپری سے منسلک کرے گا۔ اس راستے پر موٹر وے ایم-9 سے رابطہ قائم کرنے کے لیے 2 نئی ریلوے لائنیں بچھائی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور اور کوئٹہ کا ریلوے رابطہ منقطع، جعفر ایکسپریس 3 روز کے لیے معطل
ابتدائی طور پر ٹرمینل محدود پیمانے پر کام کرے گا اور پہلا مرحلہ 6 ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ منصوبے پر 400 ملین ڈالر لاگت آئے گی اور روزانہ 17 فریٹ ٹرینیں چلائی جائیں گی۔
ڈی ایس ریلوے سکھر نے کمیٹی کو بتایا کہ سکھر میں ریلوے کی 16,458 ایکڑ اراضی آپریشنل استعمال میں ہے، 3,253 ایکڑ پر قبضے ہیں جبکہ 457 ایکڑ زمین پر قبضہ مافیا کا تسلط ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بم دھماکا ٹرین جعفر ایکسپریس حملہ ریلوے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بم دھماکا جعفر ایکسپریس حملہ ریلوے جعفر ایکسپریس کے لیے
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔