جعفرایکسپریس دھماکے میں ریموٹ کنڑول ڈیوائس ،5ایکسپلو سوز استعمال ہوئے : ڈی آئی جی
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) ڈی آئی جی ریلوے پولیس نے انکشاف کیا کہ جعفر ایکسپریس دھماکے میں ریموٹ کنٹرول ڈیوائس اور 4 سے 5 ایکسپلوسوز استعمال کیے گئے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلویز کا اجلاس کنوینر رمیش لال کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں ڈی آئی جی ریلوے پولیس نے جعفر ایکسپریس دھماکے سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حملہ آوروں کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، تاہم تحقیقات میں حساس ادارے شامل ہیں۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ واقعہ ممکنہ طور پر بلوچستان سے پلان کیا گیا تھا، جبکہ ریلوے پٹریوں کی نگرانی اور ایف سی کے ساتھ مشترکہ گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے جعفر ایکسپریس میں جیمرز لگانے کی بھی سفارش کر دی۔ اجلاس میں ریلوے کی زمینوں اور پراپرٹیز کے استعمال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سیکرٹری ریلوے نے بتایا کہ وزارت نے پہلی بار لینڈ اینڈ پراپرٹی ڈائریکٹوریٹ کے تحت باقاعدہ کام کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان پراپرٹیز کی لیز مدت 33 سال تک بڑھائی جا سکتی ہے، جس سے ریلوے کی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ وی آئی پی سیلون کے استعمال کے معاملے پر بھی بحث ہوئی، جس پر حکام نے بتایا کہ سیلون کو عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے، اسلام آباد سے کراچی تک سیلون کا کرایہ ایک لاکھ 70 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے، جس میں دس مسافر ایک ساتھ سفر کر سکتے ہیں۔ مزید برآں کراچی پورٹ سے پیپری تک فریٹ کوریڈور منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری ریلوے نے بتایا کہ منصوبہ دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ ابتدائی سرمایہ کاری 40 کروڑ ڈالر متوقع ہے۔ رکن صادق علی میمن نے ذیلی کمیٹی میں شامل نہ کیے جانے پر احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے بتایا کہ ڈی ا ئی جی
پڑھیں:
جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43
— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026
رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں