مریدکے میں تصادم کے بعد ٹی ایل پی مظاہرین منتشر
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
مریدکے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی نے انتشار پسند گروہ کو منتشر کر دیا۔
جب انتشار پسندوں کو منتشر کرنے کی کارروائی شروع ہوئی تو تحریک لبیک پاکستان (TLP) کے کارکنوں نے پتھراؤ، کیل دار ڈنڈوں اور پیٹرول بموں کا استعمال کیا۔ بعد ازاں انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچا۔
نتیجتاً قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی جان کے دفاع میں محدود کارروائی کرنا پڑی۔
جانی نقصانپولیس / رینجرز
شہید: 1 (ایس ایچ او)
زخمی: 48 (جن میں سے 17 گولی لگنے سے زخمی ہوئے)
یہ بھی پڑھیے اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے کے بعد کون سا احتجاج؟ خواجہ آصف کی ٹی ایل پی پر تنقید
شہری
ٹی ایل پی مظاہرین جاں بحق: 3
راہ گیر جاں بحق: 1
سویلین زخمی: 8
اس کے علاوہ انتشار پسند گروہ نے 40 سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں کو آگ لگا دی۔
قانون نافذ کرنے والوں نے متعدد انتشار پسند لوگوں کو گرفتار کر لیا۔ سرچ آپریشن جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹی ایل پی احتجاج مریدکے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹی ایل پی احتجاج مریدکے قانون نافذ کرنے ٹی ایل پی
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔