وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 26 سے زائد ارکان پر مشتمل کابینہ کی ابتدائی فہرست تیار کر لی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن )خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 26 سے زائد ارکان پر مشتمل کابینہ کی ابتدائی فہرست تیار کرلی۔
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کابینہ کی تشکیل کے لیے مشاورت مکمل کرلی اور ابتدائی طور پر 26 سے زائد رکنی کابینہ کی فہرست تیار کرلی ہے جو کل بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کو پیش کریں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ نئے وزیراعلیٰ کی ٹیم میں علی امین گنڈاپور کی ٹیم کے کھلاڑی بھی شامل ہوں گے اور مزمل اسلم مشیر خزانہ اور بیرسٹر محمد علی سیف مشیر اطلاعات رہیں گے۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف واحد رہنما ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے کو موثر انداز میں سنبھال سکتے ہیں: گارڈین
ذرائع کے مطابق کابینہ میں مینا خان، آفتاب عالم، ارشد ایوب، خلیق الرحمان، عدنان قادری اور فخر جہاں کو بھی کابینہ میں شامل کیے جانے کا امکان ہے، اسی طرح سینئر ارکان اسمبلی کو بھی کابینہ کا حصہ بنانے کی تجویز زیرغور ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سینیٹ الیکشن کے دوران ٹکٹ سے محروم رہ جانے والے دو امیدواروں کو بھی کابینہ میں شامل کرنے کا امکان ہے اور خاتون کو بھی کابینہ میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مزید :.ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کو بھی کابینہ کابینہ میں کابینہ کی
پڑھیں:
ایسا کونسا راستہ بچا ہے جس کے بعد میں اپنے لیڈر سے ملاقات کر سکوں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
میں تمام آئینی اور قانونی راستے اپنا چکا ہوں، سہیل آفریدی - فائل فوٹووزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ میں تمام آئینی اور قانونی راستے اپنا چکا ہوں، ایسا کونسا راستہ بچا ہے جس کے بعد میں اپنے لیڈر سے ملاقات کر سکوں؟
سہیل آفریدی نے گزشتہ شب دھرنا ختم کرنے پر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود مجھے اور نہ دیگر رہنماوں کو بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان سے ملنے دیا گیا، اس سے پہلےجو لندن بھاگ جاتے تھے اِن کو 50، 50 لوگ ملتے تھے۔
سربراہ تحریکِ تحفظِ آئین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ اگر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرنی ہے تو عوامی طاقت سے ایوان کی کارروائی روک دیں۔
وزیراعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ کل پورا دن، پوری رات اور اب صبح ہو گئی مجھے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، ہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کریں گے، چیف جسٹس کو بتائیں گے آپ کے 3 ججز نے باقاعدہ آرڈر دیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدالتیں اپنے احکامات پر عملدر آمد نہیں کرواتیں تو پھر ملک میں جنگل کا قانون ہوگا۔