اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اکتوبر2025ء) وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ گو اے آئی ہب کا آغاز پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں سے جاری برادرانہ تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے، گو اے آئی ہب روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، تکنیکی تربیت فراہم کرے گا، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرے گا اور مقامی اسٹارٹ اپس کو عالمی سطح پر اپنا دائرہ کار بڑھانے میں مدد دے گا، یہ اقدام وزیراعظم کے ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے ویژن اور قومی اے آئی پالیسی کے مطابق ہے، اس ہب کے ذریعے عالمی آؤٹ سورسنگ کی تین ممالک کی فہرست میں شامل کرنے والے پاکستانی فری لانسرز اب سعودی کمپنیوں کو دور سے خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

ہفتہ کو سعودی عرب کے گو ٹیلی کمیونیکیشنز گروپ نے یہاں پاکستان میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ہب کا آغاز کیا، جس کا مقصد تحقیق کو فروغ دینا، ڈیجیٹل حل فراہم کرنا اور فری لانسرز اور ٹیک کمپنیوں کے درمیان روابط قائم کرنا ہے۔وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ، سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی، نیشنل کوآرڈینیٹر ایس آئی ایف سی جنرل سرفراز احمد، گو گروپ کے سی ای او یحییٰ بن صالح المنصور اور سی ای او پی ایس ای بی ابوبکر نے مشترکہ طور پر گو اے آئی ہب کا افتتاح کیا۔

اس اقدام کا آغاز سعودی عرب کے گو ٹیلی کمیونیکیشنز گروپ کے اشتراک سے کیا گیا ہیجس کا مقصد مصنوعی ذہانت کی تحقیق، علم کے تبادلے، ڈیجیٹل صلاحیت کی ترقی اور ٹیکنالوجی حل کی مشترکہ تخلیق کو فروغ دینا ہے تاکہ ڈیجیٹل شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط کیا جا سکے۔اپنے خطاب میں شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ گو اے آئی ہب کوئی روایتی معاہدہ یا ایک بار کا لین دین نہیں بلکہ ایک پائیدار ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو پاکستانی پیشہ ور افراد اور کاروباریوں کو سعودی کاروباروں کے ساتھ سفر یا اضافی وسائل خرچ کیے بغیر براہ راست رابطے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ہب کے ذریعے پاکستانی فری لانسرز جو پہلے ہی پاکستان کو عالمی آؤٹ سورسنگ کے سرفہرست تین ممالک میں شامل کر چکے ہیں ، اب سعودی کمپنیوں کو دور سے خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیٹا انفراسٹرکچر میں بڑی سرمایہ کاری اس اقدام کی پیروی کرے گی، جو پاکستان کے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی حمایت کرے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام وزیراعظم کے ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے وڑن اور قومی اے آئی پالیسی کے مطابق ہے۔

یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کی پالیسیاں کاغذوں سے نکل کر عملی میدان میں آ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مستقبل کے تعاون کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔منصوبے کو بہت سی آنے والی کامیابیوں کا پہلا قطرہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان جلد ہی اربوں ڈالر کی نئی سرمایہ کاری دیکھے گا۔وفاقی وزیر نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) اور وزیراعظم کی قیادت میں وفاقی وزرائ کی ٹیم کی کوششوں کو سراہا، جنہوں نے اس بڑے منصوبے کو حقیقت بنانے کے لیے سخت محنت کی۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری میں واضح اضافہ، ابھرتے ہوئے تکنیکی ٹیلنٹ اور ملک بھر میں مصنوعی ذہانت کے مراکز کے پھیلاؤ کے ساتھ پاکستان اب نتائج دیکھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہمیشہ اچھے اور مشکل وقتوں میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور یہ شراکت داری ٹیکنالوجی اور جدت میں دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرتی ہے۔وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان آئی ٹی شعبے میں حال ہی میں طے پانے والے 17 نئے معاہدے تعاون کو مزید بڑھائیں گے۔

انہوں نے تمام فریقین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں برادر ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت کے تحت مستقبل میں سینکڑوں نئے معاہدوں میں سے چند ہیں۔پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے کہا کہ گو اے آئی ہب مصنوعی ذہانت اور نئے ڈیجیٹل حل پر توجہ دے گا، یہ ہب علم کے تبادلے، مہارتوں کی ترقی اور پاکستان میں ٹیلنٹ کی ترقی میں بھی مدد دے گا۔

انہوں نے بتایا کہ کمپنی نے امریکہ کے سلیکون ویلی میں ایک ہب کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے اور اب اسی وڑن کو پاکستان لا رہی ہے۔سفیر نے کہا کہ یہ منصوبہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان گہرے برادرانہ تعاون اور مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ اقدام جدت، ٹیکنالوجی، تعلیم اور علم کے تبادلے کے لیے ہماری مشترکہ وابستگی کو اجاگر کرتا ہے۔

ہم مزید منصوبوں کے منتظر ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت کو مضبوط کریں گے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ہب طویل مدتی فوائد، نئے مواقع اور دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات لائے گا۔گو گروپ کے سی ای او یحییٰ بن صالح المنصور نے کہا کہ سلیکون ویلی کے بعد اسلام آباد میں گو اے آئی ہب کا آغاز سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل جدت اور ترقی میں تعاون کا ایک نیا باب ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستان کی قیادت کے مشترکہ وڑن کی عکاسی کرتا ہے جو دوطرفہ تکنیکی اور معاشی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں گو اے آئی ہب کا آغاز پاکستان کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم، با صلاحیت نوجوانوں اور جدت کے امکانات پر ہمارے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم سعودی اور پاکستانی ٹیکنالوجی منظرناموں کو جوڑ کر اس تعلق کو عملی جامہ پہنانے کے لیے یہاں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی کی ڈیٹا سینٹرز اور سائبر سکیورٹی انفراسٹرکچر میں آنے والی سرمایہ کاری پاکستان میں ایک مضبوط ڈیجیٹل مستقبل کی بنیاد رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلی کا بے پناہ پوٹینشل ہے۔ مل کر، ہم جدت کو آگے بڑھا سکتے ہیں اور اپنے لوگوں کے لیے نئے مواقع کھول سکتے ہیں۔انہوں نے پاکستانی کمپنیوں اور اداروں کو دعوت دی کہ وہ گو اے آئی ہب کے ساتھ مل کر سعودی مارکیٹ میں اے آئی سے متعلق مواقع تلاش کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی ٹیلنٹ کو اس تعاون سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے اے آئی سے چلنے والے حل تیار کیے جائیں۔سی ای او پی ایس ای بی ابوبکر نے اس اقدام کے تیزی سے عملی شکل اختیار کرنے پر روشنی ڈالی، جو سعودی عرب اور پاکستان کی قیادت کے درمیان مضبوط ہم آہنگی اور ٹیکنالوجی تعاون کے بڑھتے ہوئے جوش کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دلچسپ پروگرام کو اگر ہم اسے ایک کیس اسٹڈی کے طور پر لیں، تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب چیزیں ہم آہنگ ہوتی ہیں، ترقی تیزی سے ہوتی ہے۔ ہم صرف تین ہفتوں پہلے گو ٹیلی کام کے دفتر میں تھے اور اب ہم یہاں اس کا باضابطہ آغاز کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گو ٹیلی کام کی ٹیم نے تین ہفتوں کے اندر سب کچھ ترتیب دیا۔گو اے آئی ہب کو "مثالی ہم آہنگی اور سب کے لیے جیت’’ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پاکستانی اسٹارٹ اپس، ٹیک فرموں، اور سروس فراہم کنندگان کے لیے سعودی مارکیٹ اور عالمی ٹیکنالوجی نیٹ ورکس سے رابطہ قائم کرنے کے وسیع مواقع کھولے گا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے گو اے ا ئی ہب کا ا غاز ہے انہوں نے کہا کہ کی عکاسی کرتا ہے شزہ فاطمہ خواجہ مصنوعی ذہانت سعودی عرب کے ہیں انہوں نے سرمایہ کاری اور پاکستان نے کہا کہ یہ پاکستان میں کہ یہ اقدام پاکستان کے وفاقی وزیر کے درمیان سکتے ہیں فراہم کر سی ای او کے ساتھ گو ٹیلی کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم