اقوام متحدہ کی عالمی ڈیجیٹل تقسیم ختم کرنے کے لیے فوری اقدام کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
دبئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 اکتوبر2025ء) اقوام متحدہ نے عالمی ڈیجیٹل تقسیم ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کر نے کی اپیل کی ہے ۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے ٹیکنالوجی کے لیے خصوصی سفیر امن دیپ سنگھ گل نے دبئی میں جاری ٹیکنالوجی اور اے آئی نمائش ’’جیٹیکس گلوبل‘‘ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ڈیجیٹل تقسیم کو کم کرنے کے لیے عالمی تعاون اور مؤثر حکمرانی ناگزیر ہیں۔
بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو ) کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2024 میں تقریباً 5.5 ارب افراد انٹرنیٹ سے منسلک تھے، جو 2023 کے مقابلے میں 22 کروڑ 70 لاکھ کا اضافہ ہے تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ انٹرنیٹ تک رسائی میں اب بھی خاص طور پر کم آمدنی والے ممالک میں نمایاں تفاوت موجود ہے۔
(جاری ہے)
خصوصی سفیر امن دیپ سنگھ گل نے کہاکہ ہمیں ان ٹیکنالوجیز کو تعاون اور یکجہتی کے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے اقوام متحدہ جیسے جامع اداروں کا کردار کلیدی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2024 میں دنیا کی 32 فیصد آبادی یعنی تقریباً 2.6 ارب افراد اب بھی انٹرنیٹ سے محروم تھے جبکہ جو لوگ جڑے بھی ہوئے ہیں ان میں سے بہت سے ناقص کنکشن یا ناکافی ڈیوائسز کے باعث مؤثر رسائی سے محروم ہیں۔انہوں نے کہاکہ مسئلہ صرف انٹرنیٹ تک رسائی کا نہیں بلکہ "ڈیٹا ڈیوائیڈ" اور "اے آئی ڈیوائیڈ" بھی سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امیر ممالک میں 93 فیصد آبادی انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے جبکہ غریب ممالک میں یہ شرح صرف 27 فیصد ہے۔انہوں نے بتایا کہ افریقہ کے پورے براعظم میں دنیا کی ڈیٹا سینٹر استعداد کا صرف ایک فیصد سے بھی کم حصہ ہے، اور حال ہی تک وہاں ایسے GPU چپس کی تعداد 1,000 سے بھی کم تھی جو اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ڈیجیٹل خلیج حقیقت ہے اور اس کے نتیجے میں ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے مواقع غیر منصفانہ طور پر تقسیم ہو رہے ہیں۔ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اقوام متحدہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
شام پر اسرائیل کا حملہ ناقابل قبول ہے، اقوام متحدہ
اپنے ایک بیان میں نجات روچڈی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ، شام کی خودمختاری، وحدت، آزادی اور علاقائی سالمیت پر یقین رکھتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کی نمائندہ "نجات روچڈی" نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ پہلے اور اب شام پر اس طرح کے حملے "بیت جن" میں رہنے والی آبادی کی نقل مکانی کا باعث ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے وہاں کے خاندان اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے آس پاس کے علاقوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ اس طرح کے اقدامات شام کی خود مختاری اور سالمیت کے لئے خطرہ ہے کہ جن پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ یہ حملے پہلے سے غیر مستحکم صورت حال کو مزید بگاڑ رہے ہیں۔ نجات روچڈی نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ، شام کی خودمختاری، وحدت، آزادی اور علاقائی سالمیت پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس طرح کی تمام جارحیتں فوری طور پر بند کی جائیں۔ اقوام متحدہ کی اس نمائندہ نے 1974ء کے جنگ بندی معاہدے کی مکمل پابندی کی ضرورت پر زور دیا۔ واضح رہے کہ آج صبح اسرائیلی افواج نے دمشق کے مضافاتی علاقے بیت جن پر حملہ کیا۔ علاقہ نشینوں کی صیہونی افواج کے خلاف مزاحمت کے نتیجے میں 13 اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے، جس کے بعد مذکورہ اسرائیلی آپریشن بند کر دیا گیا۔ شام نے صیہونی رژیم کی اس کارروائی کو مجرمانہ قرار دیا۔ اس حوالے سے شام نے کہا کہ یہ حملہ اور اس کے بعد ہونے والے فضائی حملے ایک جنگی جرم ہیں۔