کراچی میں افغانوں کے خالی گھروں کو منہدم کرنے کیلیے آپریشن شروع
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251016-08-26
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں سرکاری زمین کو قبضے سے بچانے کے لیے افغانوں کے خالی کیے گئے گھروں کو مسمار کرنے کے لیے آپریشن شروع کر دیا گیا۔ڈپٹی انسپکٹر جنرل ( ڈی آئی جی ) غربی عرفان علی بلوچ کے مطابق سہراب گوٹھ میں افغانوں کے خالی کیے گئے گھروں کو منہدم کرنے کے لیے ایک بڑا آپریشن شروع کیا گیا ہے تاکہ غیر قانونی قبضہ کرنے والے عناصر کو سرکاری زمین پر قبضہ کرنے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ زمین سہراب گوٹھ کے قریب افغان کیمپ میں واقع ہے، جو 200 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے، جہاں افغانوں کے 3 ہزار گھر بنے ہوئے تھے۔ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں پولیس حکام کو ایک خط لکھا ہے تاکہ ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جائے جس میں شہری انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شامل ہوں تاکہ خالی کی گئی سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضے کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بے گھر افغانوں کا سب سے بڑا کیمپ تھا، جہاں اندازاً 30 ہزار افغان رہتے تھے جنہیں حال ہی میں وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق 3 مرحلوں میں اپنے وطن واپس بھیجا گیا ہے۔ تاہم، اب بھی 2 ہزار افغان وہاں رہ رہے ہیں۔ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ نے کہا کہ افغان کیمپ 200 ایکڑ پر پھیلا ہوا تھا اور اس میں 3 ہزار گھر تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کمشنر کراچی سے بات کی اور لینڈ مافیا کو قبضہ کرنے سے روکنے کے لیے ان گھروں کو منہدم کرنے کا آپریشن شروع کیا۔ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ آج 20 ایکڑ زمین پر بنے ہوئے گھروں کو گرایا گیا ہے، اور یہ آپریشن اگلے 3سے 4دن تک جاری رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افغانوں کے ڈی ا ئی جی گھروں کو انہوں نے کے لیے ا
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔