فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل نے صدرِ مملکت کو ملک کی مجموعی داخلی اور خارجی سلامتی کی صورتحال پر بریفنگ دی۔

ملاقات میں فیلڈ مارشل نے افغان طالبان حکومت کے جارحانہ اور اشتعال انگیز اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تازہ سلامتی کی صورتحال اور پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے دیے گئے مناسب اور موٴثر جواب سے بھی آگاہ کیا۔

صدرآصف زرداری نے پاکستان کی مسلح افواج کی طاقت، بہادری، صلاحیت اور تیاری پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

صدر مملکت نے قوم کے دفاع میں افواجِ پاکستان کی چوکسی اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا، خصوصاً افغان سرحد پر ہونے والے سرحد پار حملوں کو بروقت اور موٴثر انداز میں پسپا کرنے پر تعریف کی۔

صدرِ مملکت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہر قیمت پر اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرے گا۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل

پڑھیں:

افغان رجیم پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ افغان طالبان کی موجودہ رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق رواں سال دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں 1873 دہشتگرد مارے گئے جن میں 136 افغان شہری شامل تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس سال ملک بھر میں 67 ہزار 23 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سب سے زیادہ کارروائیاں ہوئیں۔ 4 نومبر 2025 سے اب تک کے 4910 آپریشنز میں 206 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
انہوں نے بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے بتایا کہ پاک افغان سرحد مشکل اور طویل ہے، اور اس کی مؤثر نگرانی دونوں ممالک کے مشترکہ تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے دہشتگردوں کی دراندازی میں افغان طالبان کی سہولت کاری واضح ہے، اور سرحدی علاقوں میں دہشتگرد نیٹ ورکس، اسمگلنگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں نے سکیورٹی چیلنجز بڑھا دیے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ طالبان نے دوحا معاہدے کے تحت اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ القاعدہ، داعش اور دیگر تنظیموں کی قیادت اب بھی افغانستان میں موجود ہے اور وہاں سے اسلحہ و فنڈنگ حاصل کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2024 میں 366,704 اور 2025 میں 971,604 افغان مہاجرین کو واپس بھیجا گیا، صرف نومبر میں 239,574 افراد واپس گئے۔
بھارت سے متعلق انہوں نے کہا کہ انڈین آرمی چیف کے بیانات حقیقت کے منافی ہیں اور وہ اپنی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کے خلاف زہریلا بیانیہ زیادہ تر بیرونِ ملک سے چلنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خاتمے کا واحد طریقہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل ہے، جس کے لیے بلوچستان میں مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دہشت گردی اور افغانستان
  • افغان رجیم پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • افغان رجیم ناصرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • افغان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کےلیے خطرہ بن چکی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
  • افغان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کےلیے خطرہ بن چکی ہے، ترجمان پاک فوج
  • افغان طالبان ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • بین الاقوامی مقابلہ حسن قراّت میں فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی رہنمائی حاصل رہی: وفاقی وزیر سردار یوسف
  • ’’بلڈ اینڈ بزنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے ‘‘
  • قومی  وحدت  ہماری  طاقت  ، دشمن  کے عزائم  ملکر ناکام  بنائیں  گے : فیلڈ  مارشل
  • سرزمین کا تحفظ اور قومی سالمیت اولین ترجیح ہے‘ اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا‘فیلڈ مارشل