وزیراعظم شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، پاک افغان بارڈر کی صورتحال پر بات چیت
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
وزیراعظم شہبازشریف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کی جاتی امرا میں اہم ملاقات ہوئی. جس میں پاک افغان سرحد پر جاری کشیدگی سے متعلق تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شہباز شریف نے نواز شریف کو حالیہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کے بارے میں بریفنگ دی جب کہ سابق وزیراعظم نے وزیراعظم کی قومی معاملات پر رہنمائی کی اور دونوں رہنماؤں نے ملکی استحکام اور عوامی ریلیف کے عزم کا اظہار کیا۔اتوار کو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جاتی امرا میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف سے ملاقات کی، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی موجود تھیں۔وزیراعظم نے نواز شریف کو اپنے دورہ ملائیشیا کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا جب کہ شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے صدر کو ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کا نیک خواہشات کا پیغام دیا۔دوران ملاقات وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دو طرفہ تعلقات خصوصاً اقتصادی تعاون نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔وزیر اعظم نے اپنے آنے والے دورہ مصر کے حوالے سے بھی صدر پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کو بریفنگ دی۔ملاقات میں افغانستان کی جانب سے اشتعال انگیزی پر بھی بات چیت ہوئی اور افغانستان کی اشتعال انگیزی پر مؤثر اور بھرپور جواب پر پاکستانی افواج کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے پوری قوم پاک افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شہباز شریف نے نواز شریف مسلم لیگ
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟