’ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر حد تک جائے گا‘، صدر اور وزیراعظم کا افغان جارحیت پر سخت ردِعمل
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے افغانستان کی جانب سے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں اشتعال انگیزی اور جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی قومی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی حملے کا مؤثر اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
پاک فوج کی بھرپور کارروائی، وزیراعظم کا خراجِ تحسینوزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان کی اشتعال انگیزی کے جواب میں پاک فوج کی بروقت اور مؤثر کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بے باک قیادت میں پاک فوج نے دشمن کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان کا پاکستان پر حملہ، جوابی کاروائی میں پاک فوج کا 19 افغان چوکیوں پر قبضہ
انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے دشمن کی متعدد پوسٹس تباہ کر کے افغان فورسز کو پسپائی پر مجبور کیا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان نے بارہا افغانستان کو خبردار کیا ہے کہ اس کی سرزمین سے ’فتنۂ خوارج‘ اور ’فتنۂ ہندوستان‘ جیسے دہشتگرد عناصر پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان توقع رکھتا ہے کہ افغان نگران حکومت اپنی سرزمین کو دہشتگردوں کے استعمال سے روکے گی۔
’پاکستان اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا‘، صدر زرداری کا دوٹوک مؤقفصدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات، علاقائی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ افغان قیادت نے کشمیر کے مظلوم عوام کی جدوجہدِ آزادی سے منہ موڑ کر تاریخ اور امت دونوں کے ساتھ ناانصافی کی۔
یہ بھی پڑھیں:پاک افغان سرحدی کشیدگی پر سعودی عرب اور قطر کی تشویش
صدر زرداری نے کہا کہ افغان سرزمین سے فتنۂ خوارج کے حملے اقوامِ متحدہ کی رپورٹوں سے ثابت شدہ حقیقت ہیں، اور پاکستان بارہا واضح کر چکا ہے کہ فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان کی گٹھ جوڑ سے پاکستانی شہری اور سیکیورٹی اہلکار نشانہ بن رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ افغان قیادت پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کے خلاف عملی اقدامات کرے، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ مشترکہ ذمہ داری ہے اور کسی ایک ملک پر اس کا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔
افغان عوام کے ساتھ تعلق خیرسگالی پر مبنی ہےصدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان نے چار دہائیوں تک افغان عوام کی میزبانی کر کے اسلامی اخوت اور اچھے ہمسائیگی کی مثال قائم کی۔
انہوں نے کہا کہ امن کی بحالی کے ساتھ افغان شہریوں کی باعزت واپسی دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے، اور پاکستان افغان عوام کی تعلیمی اور انسانی ضروریات کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔
دہشتگردی کے خلاف مشترکہ اقدامات ہی امن کی ضمانتصدر اور وزیراعظم دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان خطے کے امن اور استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف باہمی تعاون اور معاشی شراکت ہی خطے میں پائیدار امن اور ترقی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آصف زرداری افغان جارحیت افغانستان پاکستان شہباز شریف صدر مملکت طالبان وزیراعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان جارحیت افغانستان پاکستان شہباز شریف صدر مملکت طالبان انہوں نے کہا کہ کہا کہ پاکستان کہا کہ پاک کہ افغان کے خلاف پاک فوج کے لیے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔