قبائلی عوام کا افغان حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف اعلانِ جنگ، پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
قبائلی عوام نے افغانستان کی سرزمین سے آنے والے دہشت گردوں کے خلاف خود ہتھیار اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک پشتو آڈیو پیغام میں مقامی قبائلیوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ وطن کے دفاع کے لیے پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
پیغام میں کہا گیا ہے کہ وطن کا دفاع ہم پر فرض ہے اور ہم اس کا دفاع کرنا بخوبی جانتے ہیں۔
ہم نے ماضی میں بھی دہشت گردوں کو سبق سکھایا تھا اور اگر دوبارہ ایسی حرکت کی گئی تو پھر سبق سکھانا ہمیں آتا ہے۔
قبائلی عوام نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان سے آنے والے دہشت گرد مسلسل پاکستانی سرحدی علاقوں میں دراندازی کر رہے ہیں جس پر حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو بھرپور جواب دینا ہوگا۔
قبائلی عمائدین نے یہ بھی واضح کیا کہ امن قائم رکھنے کے لیے وہ سیکیورٹی اداروں سے مکمل تعاون کریں گے اور اگر ضرورت پڑی تو اپنی مدد آپ کے تحت اپنے علاقوں کا دفاع کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔