نعمان علی نے عبدالقادر کا 37 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
قومی ٹیم کے اسپنر نعمان علی نے جنوبی افریقا کے خلاف قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں سابق لیجنڈ اسپنر عبدالقادر کا 37 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا۔نعمان علی 5 ٹیسٹ کے تسلسل میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے پاکستانی بولر بن گئے، انہوں نے کیریئر کے 16ویں سے 20 ویں ٹیسٹ کے دوران 46 وکٹیں حاصل کیں۔عبد القادر نے 1987 اور 88 میں کیرئیر کے 48 ویں سے 52 ویں ٹیسٹ میں 44 وکٹیں لی تھیں۔پاکستان کے نعمان علی پچھلے 12 ماہ کے دوران دنیا کے سب سے کامیاب اسپنر بھی ہیں۔نعمان علی نے جنوبی افریقا کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں 10 وکٹیں لیں، انہوں نے پہلی اننگز میں 6 جبکہ دوسری اننگز میں 4 شکار کیے۔اس سال کے آغاز میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں انہوں نے 6 اور دوسرے ٹیسٹ میں 10 وکٹیں لی تھیں جبکہ انگلینڈ نے خلاف سیریز میں نعمان علی نے ملتان میں 11 اور راولپنڈی میں 9 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔یاد رہے کہ پاکستانی اسپنر نعمان علی نے گزشتہ روز ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز بھی اپنا نام ریکارڈ بک میں درج کرایا تھا۔ انہوں نے قذافی اسٹیڈیم میں جنوبی افریقا کے خلاف سابق پاکستانی اسپنر اقبال قاسم کا 37 سالہ پرانا ٹیسٹ ریکارڈ توڑا تھا۔39 سالہ نعمان علی نے جنوبی افریقا کی پہلی اننگز میں 6 وکٹیں حاصل کیں، انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں 9 ویں بار ایک اننگ میں 5 یا اس سے زائد وکٹیں لیں، وہ ٹیسٹ کرکٹ کی اننگ میں سب سے زیادہ مرتبہ 5 وکٹیں لینے والے پاکستانی لیفٹ آرم اسپنر بن گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جنوبی افریقا نعمان علی نے ٹیسٹ میں انہوں نے کے خلاف
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔