data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیویارک: دنیا بھر میں کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) کی فضا میں موجود مقدار 2024 میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، جس سے زمین کے درجہ حرارت میں مزید طویل مدتی اضافے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

 عالمی موسمیاتی ادارے (WMO) کی تازہ ترین گرین ہاؤس گیس بلیٹن رپورٹ کے مطابق یہ اضافہ انسانی سرگرمیوں، جنگلاتی آگ سے خارج ہونے والی گیسوں اور زمینی و سمندری نظاموں کی جانب سے کاربن جذب کرنے کی صلاحیت میں کمی کے باعث ہوا،  جسے رپورٹ نے ماحولیاتی تباہی کا خطرناک چکر قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2023 سے 2024 کے درمیان عالمی اوسط کاربن ڈائی آکسائیڈ میں 3.

5 پارٹس پر ملین (ppm) کا اضافہ ہوا، جو جدید سائنسی ریکارڈنگ کے آغاز (1957) کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہے۔

ڈبلیو ایم او کی نائب سیکریٹری جنرل کو بیریٹ نے کہا کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسیں ہماری زمین کے ماحول میں حرارت کو قید کر رہی ہیں، جس سے موسمیاتی نظام تیزی سے بگڑ رہا ہے،  اس کے نتیجے میں شدید موسم، گرمی کی لہریں اور تباہ کن ماحولیاتی اثرات بڑھ رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، 1960 کی دہائی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سالانہ اوسط شرحِ اضافہ 0.8 ppm تھی، جو 2011 سے 2020 کے دوران 2.4 ppm ہوگئی،  2024 میں یہ شرح 423.9 ppm تک جا پہنچی، جب کہ 2004 میں اس کی مقدار 377.1 ppm تھی۔

ماہرین کے مطابق، 2024 کے دوران ایل نینو کے شدید اثرات نے زمین کے درجہ حرارت کو مزید بڑھایا، جس کے نتیجے میں ایمیزون کے جنگلات اور جنوبی افریقہ میں خشک سالی اور تباہ کن آگ بھڑک اٹھیں۔

ڈبلیو ایم او کی سائنسدان اوکسانا تاراسووا کے مطابق خدشہ ہے کہ زمین اور سمندروں کے قدرتی نظام کاربن جذب کرنے میں کمزور ہو رہے ہیں، جس سے فضا میں مزید کاربن جمع ہوگا اور عالمی حدت کا عمل تیز تر ہو جائے گا۔

عالمی موسمیاتی ادارہ نے واضح کیا کہ یہ نتائج اقوامِ متحدہ کی آئندہ ماحولیاتی کانفرنس (COP30) کے لیے اہم سائنسی بنیاد فراہم کریں گے، جو رواں سال نومبر میں بیلم، برازیل میں منعقد ہوگی، جہاں ممالک سے توقع ہے کہ وہ کاربن اخراج میں کمی کے لیے مزید سخت اقدامات کا اعلان کریں گے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مطابق

پڑھیں:

چینی روبوٹ نے گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کرلیا

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

چین میں ایک ہیومینائیڈ روبوٹ نے تاریخی کارنامہ انجام دیتے ہوئے 66 میل تک مسلسل پیدل چل کر گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یہ کامیابی چینی ٹیکنالوجی کمپنی آگیبوٹ کے روبوٹ اے 2 نے حاصل کی، جس نے صوبہ جیانگژو سے روانہ ہو کر شنگھائی تک کا طویل سفر طے کیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اے 2 روبوٹ کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے ایسے سسٹمز کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے جو بیٹری بدلنے کے دوران بھی حرکت جاری رکھنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں، جس سے یہ بغیر کسی توقف کے لگاتار چل سکتا ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق چوبیس گھنٹے تک جاری رہنے والی اس طویل واک کے دوران اے 2 نے مختلف سطحوں پر قدم رکھا، جن میں اسفالٹ، ٹائل شدہ فرش اور پل شامل ہیں، اور اس نے تمام ٹریفک قوانین کی پابندی بھی کی۔

کمپنی آگیبوٹ نے اعلان کیا کہ اے 2 کی یہ کارکردگی کسی بھی ہیومینائیڈ روبوٹ کے لیے طویل پیدل سفر کے حوالے سے گنیز ریکارڈ کی تصدیق کرتی ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق روبوٹ کے سفر کے اختتام پر اے 2 نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں لطیفہ کرتے ہوئے کہا کہ اب اسے شاید اپنی جوتوں کی نئی جوڑی درکار ہو۔

یہ واقعہ روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں انسانی قابو کے نئے افق کھولنے کی علامت ہے، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں روبوٹ طویل فاصلے اور پیچیدہ ماحول میں بھی خود مختار طور پر کام کرنے کے قابل ہو رہے ہیں۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں گیس کا سٹاک مکمل ختم ہو گیا، بحران میں اضافہ
  • وہ خطے جہاں خلائی اجسام گرنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے
  • رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں ترسیلات زر میں اضافہ ریکارڈ
  • ہفتہ وارمہنگائی،14 اشیاء مہنگی، 12 کے نرخوں میں کمی ریکارڈ، ادارہ شماریات
  • ملک میں صنعتی بجلی کی طلب میں 25 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ
  • چینی روبوٹ نے گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کرلیا
  • 2024 میں صنفی تشدد کے 32 ہزار 617 کیسز، شیری رحمان کا اظہار تشویش
  • وائٹ ہاوس پر فائرنگ، افغان طالبان رجیم پوری دنیا کے امن کیلئے سنگین خطرہ بن گئی
  • وائٹ ہاؤس پر فائرنگ کا واقعہ؛ افغان طالبان رجیم  پوری دنیا کے امن کےلیے سنگین خطرہ
  • مظفرآباد میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی ایک سنگین ماحولیاتی چیلنج