ماحولیاتی بحران سنگین تر، 2024 میں کاربن ڈائی آکسائیڈ میں ریکارڈ اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: دنیا بھر میں کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) کی فضا میں موجود مقدار 2024 میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، جس سے زمین کے درجہ حرارت میں مزید طویل مدتی اضافے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
عالمی موسمیاتی ادارے (WMO) کی تازہ ترین گرین ہاؤس گیس بلیٹن رپورٹ کے مطابق یہ اضافہ انسانی سرگرمیوں، جنگلاتی آگ سے خارج ہونے والی گیسوں اور زمینی و سمندری نظاموں کی جانب سے کاربن جذب کرنے کی صلاحیت میں کمی کے باعث ہوا، جسے رپورٹ نے ماحولیاتی تباہی کا خطرناک چکر قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2023 سے 2024 کے درمیان عالمی اوسط کاربن ڈائی آکسائیڈ میں 3.
ڈبلیو ایم او کی نائب سیکریٹری جنرل کو بیریٹ نے کہا کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسیں ہماری زمین کے ماحول میں حرارت کو قید کر رہی ہیں، جس سے موسمیاتی نظام تیزی سے بگڑ رہا ہے، اس کے نتیجے میں شدید موسم، گرمی کی لہریں اور تباہ کن ماحولیاتی اثرات بڑھ رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، 1960 کی دہائی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سالانہ اوسط شرحِ اضافہ 0.8 ppm تھی، جو 2011 سے 2020 کے دوران 2.4 ppm ہوگئی، 2024 میں یہ شرح 423.9 ppm تک جا پہنچی، جب کہ 2004 میں اس کی مقدار 377.1 ppm تھی۔
ماہرین کے مطابق، 2024 کے دوران ایل نینو کے شدید اثرات نے زمین کے درجہ حرارت کو مزید بڑھایا، جس کے نتیجے میں ایمیزون کے جنگلات اور جنوبی افریقہ میں خشک سالی اور تباہ کن آگ بھڑک اٹھیں۔
ڈبلیو ایم او کی سائنسدان اوکسانا تاراسووا کے مطابق خدشہ ہے کہ زمین اور سمندروں کے قدرتی نظام کاربن جذب کرنے میں کمزور ہو رہے ہیں، جس سے فضا میں مزید کاربن جمع ہوگا اور عالمی حدت کا عمل تیز تر ہو جائے گا۔
عالمی موسمیاتی ادارہ نے واضح کیا کہ یہ نتائج اقوامِ متحدہ کی آئندہ ماحولیاتی کانفرنس (COP30) کے لیے اہم سائنسی بنیاد فراہم کریں گے، جو رواں سال نومبر میں بیلم، برازیل میں منعقد ہوگی، جہاں ممالک سے توقع ہے کہ وہ کاربن اخراج میں کمی کے لیے مزید سخت اقدامات کا اعلان کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مطابق
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔