افغانستان سے تناؤ کمی میں سعودیہ‘ قطر کا کردار‘ اندرونی کہانی‘شبہ ہے جنگ بندی برقرار نہیں رہے گی: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) پاکستان‘ افغانستان عارضی سیز فائر کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ افغان طالبان نے جنگ بندی کی اپیل قطر اور سعودی عرب کے ذریعے بھی کی۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سیز فائر طالبان کی درخواست پر عمل میں آیا۔ سیز فائر کرانے میں قطر اور سعودی عرب نے کلیدی کردار ادا کیا۔ قطر اور سعودی عرب نے پاک افغان تناؤ کم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان نے براہ راست رابطہ بھی کیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دوست ممالک کی مداخلت پر افغان طالبان کے ساتھ 48 گھنٹے کا سیز فائر ہوا ہے۔ شبہ ہے کہ یہ جنگ بندی برقرار نہیں رہے گی۔ افغان طالبان اس وقت بھارت کی پراکسی بنے ہوئے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ سیز فائر زیادہ دیر نکال پائے۔ افغانستان سیز فائر کی خلاف ورزی کرتا رہا تو ہمیں جواب دینا پڑے گا۔ نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف بولے ہم پر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو جواب دینا ہمارا حق بنتا ہے۔ طالبان کے فیصلے اس وقت دہلی سے سپانسر ہو رہے ہیں۔ اس وقت کابل دہلی کی پراکسی وار لڑ رہا ہے۔ بھارت کے جہاز گرائے جانے کی گواہ پوری دنیا ہے۔ افغانستان ایک ٹینک دکھا رہا اور دعویٰٖ کر رہا ہے کہ یہ پاکستان کا ہے۔ جو ٹینک افغانستان دکھا رہا ہے ویسا ٹینک ہمارے پاس ہے ہی نہیں‘ نجانے کہاں کس کباڑی سے انہوں نے ٹینک لیا اور اب جھوٹ بول رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: افغان طالبان سیز فائر
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔