افغان طالبان اس وقت بھارت کی پراکسی بنے ہوئے ہیں، وزیر دفاع خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہےکہ افغان طالبان اس وقت بھارت کی پراکسی بنے ہوئے ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ یہ سیز فائر زیادہ دیر نکال پائے، افغانستان سیز فائر کی خلاف ورزی کرتا رہا تو ہمیں جواب دینا پڑےگا۔جیو نیوز کے پروگرام ' آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ' میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں 48 گھنٹے کا سیز فائر ہوا ہے، ہم پر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو جواب دینا ہمارا حق بنتا ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اس وقت بھارت کی پراکسی بنے ہوئے ہیں، طالبان کے فیصلے اس وقت دہلی سے اسپانسر ہو رہے ہیں، اس وقت کابل دہلی کی پراکسی وار لڑ رہا ہے، بھارت کے جہاز گرائے جانےکی گواہ پوری دنیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ایک ٹینک دکھارہا ہے اور دعویٰ کر رہا ہےکہ یہ پاکستان کا ہے، جو ٹینک افغانستان دکھا رہا ہے ویسا ٹینک ہمارے پاس ہے ہی نہیں، نجانےکہاں کس کباڑی سے انہوں نے ٹینک لیا اور اب جھوٹ بول رہے ہیں۔
اراکین اسمبلی، طاقتور طبقات، ججز، بیورو کریٹس، ایڈووکیٹ جنرل آفس اور اعلیٰ افسران کی تنخواہوں میں اضافہ کرتے رہنا قرین انصاف نہیں ہے
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کی نیت ہی نہیں کہ یہاں امن ہو، اگر انہوں نے جنگ کو بڑھایا تو ہم اپنی پوری طاقت سے جواب دیں گے، کچھ دوست ممالک گفت و شنید کی بات کر رہے تھے، تب ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ وہاں جاکر بات کریں، ویزوں کے لیے ان کو کہا تھا لیکن جنگ شروع ہوئی تو ویزا درخواست واپس لے لی۔امریکی صدر ٹرمپ کے حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے جنگیں بند کرائی ہیں، وہ امن کے داعی ہیں، صدر ٹرمپ اگر یہاں بھی جنگ بند کرانا چاہتے ہیں تو موسٹ ویلکم ۔
جیب میں پیسے ہوں، خریدنے کا ڈھنگ آتا ہو، دماغ کے کسی خانے میں عقل بھی ہو تو یہ ملک ایسے لوگوں کیلئے جنت ہے، پراپرٹی ٹائیکون سے ملاقاتیں ہوئیں
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف کا کہنا کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کی پراکسی رہا ہے
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔