پیوٹن کی شامی صدر الشرع سے ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماسکو:۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اپنے شامی ہم منصب احمد الشرع سے ملاقات کے دوران کہا کہ دونوں ممالک باہمی تعلقات کو بہتر بنائیں گے۔ دونوں رہنماﺅں نے بدھ کے روزروس کے دارالحکومت ماسکو میں ملاقات کی۔
الشرع اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک روس کا اولین دورہ کر رہے ہیں۔ الشرع نے گزشتہ سال روس کے پرانے اتحادی بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد شام کی صدارت سنبھالی تھی۔ روسی صدر کے دفتر کریملن میں ہونے والی اس ملاقات کے آغاز پر صدر پوٹن نے شام میں اس ماہ کے اوائل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات پر صدر احمد الشرع کو مبارکباد دی اور کہا کہ روسی حکومت دمشق کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔
ماسکو میں کریملن کے مطابق دونوں رہنماﺅں کے درمیان شام میں روسی فوجی اڈوں کے مستقبل پر بھی بات چیت متوقع تھی، جن میں لاذقیہ صوبے میں ایئر بیس اور ساحلی شہر طرطوس میں بحری اڈہ بھی شامل ہیں۔ کریملن کی طرف سے یہ بات دونوں صدور کی ملاقات کے آغاز کے چند ہی منٹ بعد کہی گئی تھی۔
صدر الشرع نے ملاقات کے آغاز پر کہا کہ شام سابقہ حکومت کے دور میں طے کردہ تمام معاہدوں کا احترام کرے گا، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دمشق اور ماسکو کے تعلقات میں تسلسل برقرار رہے گا۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملاقات کے
پڑھیں:
افغانستان ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے، نائب وزیر اعظم
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ’میں نے کابل میں واضح کردیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دورہ روس میں وزارت خارجہ نے روسی انتظامیہ سے ملاقاتوں کا خط پہلے ہی بھیج دیا تھا، اس وجہ سے روسی وزیر خارجہ سرگئی، نائب وزیر اعظم الیکسی اوورچک سے علیحدہ علیحدہ باہمی ملاقاتیں ہوئیں، روسی نائب وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں مختلف روسی وزراء بھی موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی برس کے بعد یورپی یونین کے صدر کے ساتھ کسی پاکستانی نے ملاقات کی، 2021 کے بعد سے 5 برس سے پاکستان ای یو مذاکرات التواء کا شکار تھے، یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندوں کے ساتھ انتہائی اہم ملاقات ہوئی، یہ ملاقات انتہائی خوشگوار اور بے تکلفی والے ماحول میں ہوئی۔
اس دورے سے ہمارے یورپی یونین سے رابطوں میں موجود کمی دور ہوئی، ساتواں اسٹریٹیجک ڈائیلاگ انتہائی اہم رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ای یو.کے ساتھ ہمارے تعلقات کے تمام شعبوں تجارت، اقتصادی امور، جی ایس پی پلس، افغانستان، سیکیورٹی، بھارت اور دیگر معاملات ہر بات چیت کی، ہم نے کھل کر افغانستان سے پاکستان پر حملوں پر تفصیلی بات چیت کی، پہلگام واقعہ اور پاک بھارت جنگ کے بعد کئی مرتبہ رابطہ ہوا تھا۔
انہیں بتایا کہ میں نے افغانستان کا ذاتی دورہ کیا اور افغان قیادت سے تمام موضوعات پر بات چیت کی، میں نے بتایا کہ افغانستان میں ہونے والے تمام فیصلوں اور وعدوں کو کابل میں ہی دنیا کے سامنے رکھا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ’میں نے کابل میں واضح کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، یا تو ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے۔