Express News:
2026-07-24@05:54:19 GMT

’’لیاقت علی کا مقام صرف ’لیاقت علی‘ ہی کی جگہ پر ہے!‘‘

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

قدرے فربہ سے بَر میں ڈھیلی ڈھالی سی شیروانی۔۔۔

سر پر وہی مخصوص ٹوپی، جو بعد میں اُنھی کے نام سے موسوم ہوئی۔ چہرے پر پھیلی ہوئی مسکراہٹ کے باوجود سنجیدگی اور متانت ان کی شخصیت کو اور بھی زیادہ پُروقار بنا رہی تھی۔ یہ کوئی اور نہیں ’شہید ملت‘ لیاقت علی خان خود تھے، ہم انھیں آج کے زمانے میں دیکھ کر حیران رہ گئے۔۔۔

جھجھکتے جھجھکتے اُن کے قریب گئے، اپنا تعارف کرایا اور بات کرنے کی اجازت چاہی، تو ان کے چہرے پر دبی دبی سی مسکراہٹ در آئی۔

’’بیٹھ جاؤ، برخوردار!‘‘

ہم نے موقع غنیمت جانا اور جلدی سے ان کے پاس والی نشست پر ادب سے بیٹھ گئے۔

’’یہاں تو ہم کافی دیر سے آئے ہوئے ہیں، لیکن تمھارے علاوہ یہاں ہمیں کسی نے بھی نہیں پہچانا۔۔۔!‘‘ انھوں نے ایم اے جناح روڈ کی تیز تیز آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔ اس سے قبل کہ ہم کچھ صفائی پیش کرتے، وہ کہنے لگے:

’’کراچی اب بدل گیا ہے، بلکہ یہ ملک بھی تو اب پہلے جیسا نہیں رہا۔‘‘

ان کے لہجے میں موجود ایک شکایت بھی محسوس کی جاسکتی تھی۔

’’جی قائدِملت! اب تو کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا، ہمیں افسوس ہے کہ اب آپ کے ملک میں آنے والی حکومتیں ہوں یا بڑے ادارے، آپ کو کوئی بھی یاد نہیں رکھتا۔ ’بانیان پاکستان‘ میں انھیں صرف قائداعظم ہی یاد رہے، وہ بھی شاید اس لیے کہ ان کی تصویر نوٹ پر موجود ہے۔‘‘

’’قائداعظم تو قائداعظم تھے، بلاشبہہ وہ اپنے آپ میں یَکتا تھے!‘‘ انھوں نے بہت خوب صورتی سے شکایت کی تلخی ’بانیٔ پاکستان‘ کی تعریف سے ڈھانپ دی۔

’’ہمارے ہاں علامہ اقبال کے یوم پیدائش پر تو تعطیل دی جاتی ہے، کچھ سیاسی جماعتوں کے لوگ کبھی کبھار محترمہ فاطمہ جناح کا بھی تذکرہ کرلیتے ہیں، لیکن ’مسلم لیگ‘ نام کی کسی بھی ’سیاسی جماعت‘ کو آپ کا یوم شہادت تک یاد نہیں رہتا۔‘‘ ہم نے کہا تو وہ بولے:

’’میاں، ڈاکٹر اقبال کا اپنا ایک مرتبہ اور فلسفہ ہے، ایسے ہی محترمہ فاطمہ جناح کا بھی ہماری تاریخ میں اپنا ایک الگ اور منفرد مقام ہے، یہ ضروری تو نہیں ہوتا ناں کہ ہم کسی کو فراموش کردینے کی شکایت کریں، تو ان کا موازنہ اپنے دیگر محسنین سے کرنے لگیں۔‘‘

انھوں نے توقف کیا اور ہمارے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ’’بیٹا، لیاقت علی کی جگہ صرف لیاقت علی ہی کے مقام پر ہے۔۔۔ اور مجھے اطمینان ہے کہ میں نے صرف اپنی خاندانی جاگیریں ہی اس پاکستان کے لیے قربان نہیں کیں، بلکہ اپنی جان بھی اس ملک کے لیے نچھاور کر دی۔۔۔ تحریک پاکستان میں ضرور کوئی بڑا راہ نما شہید نہیں ہوا، لیکن پاکستان پر قربان ہونے والا پہلا سربراہ تو میں ہی ہوں! اس کے بعد مجھے کوئی شکوہ نہیں کہ یہاں کے سیاسی قائدین، حکومتی سربراہ اور میڈیا پر مجھے یاد کیا جاتا ہے یا نہیں۔‘‘

’’جناب ایسے تو پھر لوگوں کو یاد ہی نہیں رہے گا کہ پاکستان کے لیے آپ کا کردار کیا تھا؟‘‘ ہم نے قدرے بے چینی سے اظہار کیا تو لیاقت علی خان کی مسکراہٹ اور گہری ہوگئی، وہ کہنے لگے:

’’دیکھیے، اگر سب بھلائے بیٹھے ہیں اور تب بھی آپ جیسے کچھ لوگ تو ہمیں یاد رکھے ہوئے ہیں، تو کیا یہ کوئی کم اہم بات ہے؟‘‘

ہم نے قدرے سوالیہ انداز میں انھیں دیکھا، تو وہ گویا ہوئے: ’’میاں، تاریخ میں شہرت اور اہمیت دو الگ الگ چیزیں ہوتی ہیں، بعضے وقت یہ یک جا ہوجاتی ہیں اور کبھی نہیں بھی ہوپاتیں۔ 1933ء میں جب قائداعظم ہندوستان کی سیاست سے مایوس ہوکر لندن چلے گئے تھے، تو انھیں 1934ء میں لندن جا کر منانے والا کون تھا۔۔۔؟ کیا 1946ء میں متحدہ ہندوستان کی عبوری حکومت کے وزیرخزانہ کی حیثیت سے میرا یادگار بجٹ بھلایا جا سکتا ہے؟ کیا ’نئی دلی‘ میں پاکستان کے سفارت خانے کی عمارت کی تاریخ بدلی جا سکتی ہے کہ یہ کس نے ’پاکستان‘ کو عطیہ کی تھی؟

مجھے اس ملک کے لیے اپنے بھرپور کردار اور قربانی پر پورا پورا بھروسا ہے کہ اس پاکستان کے لیے اپنے جان ومال کو لُٹا دینے والے کسی بھی راہ نما کا ذکر ہوگا، تو تاریخ کو مجھ پر ضرور بالضرور ٹھیرنا پڑے گا۔۔۔!‘‘

’’لیکن پاکستان کے بہت سے دانش وَر آپ پر تنقید کرنے کی غرض سے ہی ٹھیرتے ہیں، اور 1949ء میں منظور شدہ ’قراردادِمقاصد‘ پر خوب نکتہ چینی کرتے ہیں۔‘‘ ہم نے ایک اہم اعتراض ’قائد ملت‘ کے روبرو کیا۔ وہ مسکرانے لگے، پھر بولے:

’’مجھے حیرت ہے کہ آج بھی ایسی باتیں کی جاتی ہیں، حالاں کہ 1973ء کے آئین کی تشکیل کے موقع پر اگر منتخب ارکان چاہتے، تو اس بنیاد کے برخلاف بھی تو جا سکتے تھے، لیکن وہ کیوں نہیں گئے؟ اس لیے کہ یہ حقیقت ہے کہ تحریک پاکستان اور قائداعظم کا نظریہ بھی یہی تھا۔ انھوں نے کبھی ’سیکولر‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا، جب کہ کئی مواقع پر واشگاف الفاظ میں اسلامی نظام کی بات کی۔ مجھے یقین ہے کہ اگر 1949ء میں جناح صاحب بہ قید حیات ہوتے، تو وہ اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتے۔ دوسری بات یہ کہ ’قراردادِ مقاصد‘ منتخب ایوان کی منظور کردہ تھی۔ اگر ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں، تو آخر اس جمہوری طریقہ کار پر تنقید کیوں کرتے ہیں؟‘‘

’’آپ پر ایک اعتراض یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ نے کراچی میں مہاجروں کو بسایا، کیوں کہ آپ یہاں اپنا حلقۂ انتخاب بنانا چاہتے تھے؟‘‘

ہمارے اس سوال پر ’قائدِملت‘ کے چہرے پر یکایک سنجیدگی سی چھاگئی، آنکھوں میں ہلکی سی نمی چَھلکی، انھوں نے ایک سرد آہ بھری اور فرمایا:

’’اگر لیاقت علی نے پاکستان سے محبت اور ’پاکستانیت‘ کے سوا اپنے لیے یا اپنے اہل خانہ کے لیے کچھ جمع کیا ہوتا، تو وہ 16 اکتوبر 1951ء سے آج 2025ء میں تک کچھ نہ کچھ تو دنیا کے سامنے آ ہی چکا ہوتا۔ میں نے تو آخری مہاجر کے مکان بنوا لینے تک اپنے سر پر کسی مکان بنوانے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ ’حلقۂ انتخاب‘ کی بات کہنے والے یقیناً زیادتی کرتے ہیں، پاکستان بننے سے پہلے میرے پاس کیا تھا اور قیام پاکستان کے بعد کیا رہا؟ اگر صرف اسی کو دیکھ لیں، تو مجھے یقین ہے کہ تاریخ کے کٹہرے میں مجھ پر یہ الزام بھی جاتا رہے گا۔ پھر اگر میرے ایسے سیاسی عزائم ہوتے، توکیا میں اپنے بعد اپنے بیوی اور بچوں کو ’سیاسی قیادت‘ کے لیے تیار نہ کرتا، جیسے پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں آج ایک عام رویہ بن چکا ہے! کیا آپ نہیں جانتے کہ کراچی شہر کے باسی سیاسی اصولوں کے معاملے میں کس قدر سخت ہیں، انھوں نے نظریے کی بنیاد پر ’شہید ملت‘ کے بیٹے اکبر لیاقت کو بھی نہیں بخشا اور 1977ء میں انھیں بھی بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔‘‘

’’یہ بتائیے کہ آپ کے خلاف سازش کس نے کی تھی؟‘‘

ہمارے اس سوال پر ’قائد ملت‘ نے کہا کہ میں کسی کا نام نہیں لوں گا، تاریخ کی کتابوں میں اس کے بہت واضح شواہد آچکے ہیں، مبینہ قاتل سید اکبر کو مارنے والے پولیس افسر محمد شاہ کی گجرات میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں ہلاکت، قتل کی تحقیقات کرنے والے طیارے کے ’حادثے‘ سے سب کچھ واضح ہے کہ یہ سب کیوں ہوا۔۔۔!‘‘

’’بہت سے ’مورخین‘ آپ کو پاکستان کی خرابیوں کے لیے بھی مورودِالزام ٹھیراتے ہیں؟‘‘ ہمارے اس سوال پر وہ بے ساختہ سی ایک مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگے:

’’برخوردار! تمھیں تو پتا ہی ہے کہ ہمارے چلے جانے کے بعد خواجہ ناظم الدین جیسے مرنجاں مرنج وزیراعظم بنے، وہ سیدھے سادے آدمی تھے، چالاک لوگوں کے بچھائے جال میں پھنستے چلے گئے۔ پہلے 1952ء میں بنگلا زبان کی تحریک میں طلبہ پر گولیاں چل گئیں۔ پھر 1953ء میں لاہور میں پاکستان کی تاریخ کا پہلا مارشل لا لگ گیا، جس کی بنیاد پر خواجہ صاحب کو وزارت عظمیٰ سے برطرف کردیا گیا اور محمد علی بوگرہ ملک کے تیسرے وزیراعظم بن گئے، اس کے بعد 1954ء میں کمانڈر انچیف ایوب خان کو وزیردفاع بنا دینے کا سانحہ بھی پیش آگیا اور اسی برس گورنر جنرل غلام محمد نے دستورساز اسمبلی بھی برخاست کرڈالی۔ 1955ء میں ہمارے دور میں مسترد ہونے والا سر فیروزخان نون کا ’ون یونٹ‘ کا منصوبہ بھی نافذ کردیا گیا۔ پھر 1956ء میں ملک کا پہلا دستور تو بن گیا، لیکن بدقسمتی سے یہ پہلا دستور کوئی بھی عام انتخابات کرائے بغیر صدر اسکندر مرزا کے ہاتھوں 1958ء ہی میں تحلیل کردیا گیا۔ پھر چند ہی دن میں جنرل ایوب خان نے صدر اسکندر مرزا کو نکال کر خود ہی اقتدار سنبھال لیا، وہ ہمارا دارالحکومت تک کراچی سے اٹھا کر لے گئے۔۔۔! کیا یکے بعد دیگرے اتنے سارے سانحات کے بعد بھی یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ’لیاقت علی‘ اس ملک کے لیے کتنی ساری خرابیوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا تھا؟ اُسے تو سازشیوں نے اپنے راستے کا پتھر سمجھ کر ہٹایا تھا۔ اور اگر کوئی اب بھی یہ کہتا ہے کہ عام انتخابات لیاقت علی ہی نہیں کروا رہا تھا، تو ہمیں تو جیسے تیسے صرف چار برس مل سکے تھے، اس میں ہمیں بہ یک وقت بہت سارے ضروری کام کرنے تھے، مفلوک الحال پاکستان کے وجود کو بچانا تھا، بدترین معاشی بدحالی، مہاجرین کی آبادکاری اور ماہرین کی کم یابی سے لے کر اندرونی اور بیرونی سازشوں سے بھی نمٹنا تھا۔ سوال تو یہ ہے کہ اس کے باوجود بھی اگر ہم ہی قصور وار ہیں، تو ہمارے بعد آنے والوں نے سات برس میں بھی انتخابات کیوں نہ کروائے؟ بلکہ سات برس کے بعد ملک کو پہلی فوجی حکومت کا ’تحفہ‘ بھی دے دیا گیا۔‘‘

’قائد ملت‘ کے مُدلّل جواب کے بعد ہم نے ذکر کیا کہ ’’پاکستان کے قیام کے 75 برس مکمل ہونے پر 75 روپے کے یادگاری نوٹ پر قائداعظم کے ساتھ علامہ اقبال، سرسید اور فاطمہ جناح کی تصویر دی گئی، لیکن آپ کی تصویر نہیں دی گئی؟‘‘

ہمارے اضطراب کو بھانپتے ہوئے وہ اطمینان سے گہرا سانس لیے، پھر کہنے لگے ’’معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہمارے حوالے سے بہت زیادہ حساس واقع ہوئے ہیں۔ ہم نے آپ سے پہلے ہی کہا کہ کوئی چاہے کچھ بھی کرلے، لیکن لیاقت علی کو پاکستان کی تاریخ سے نہیں نکالا جا سکتا۔ قیام پاکستان کے موقع پر بابائے قوم کا دستِ راست، پہلا وزیراعظم، پہلا وزیرخارجہ اور پہلا وزیردفاع۔ کوئی چاہ کر بھی تاریخ سے یہ حذف نہیں کرسکتا۔ ممکن ہے یہ ’اسٹیٹ بینک آف پاکستان‘ کی ’غلطی‘ ہو یا شاید کسی کو میں اچھا نہیں لگتا ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مجھے ’اپنا‘ نہ سمجھتے ہوں، لیکن میں نے اس ملک کو ہر ہر مرحلے پر اپنا سمجھا ہے اور یہ ثابت بھی کیا ہے، تو کیا ہوا، اگر محبت کرنے والوں کو چاہنے کا حق ہے، تو مجھے ناپسند کرنے والوں سے اُن کا حق کیوں کر چھینا جا سکتا ہے؟‘‘

’’ہم تو آپ کو یہ بتا رہے تھے کہ 2022ء میں جامعہ کراچی سے بھی سرسید احمد خان، ٹیپو سلطان وغیرہ کے ساتھ آپ کی تصویر بھی مٹا دی گئی، اور جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یہ کہا کہ اس سے ’آرٹس لابی‘ کے ’’حُسن‘‘ میں فرق پڑتا ہے!‘‘

’’برخوردارِ، اتنے زیادہ جذباتی نہیں ہوتے۔ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ تصویر ہٹا سکتے ہیں، لیکن لوگوں کے دلوں سے تو کسی کی محبت کو ختم نہیں کر سکتے۔ میری شہادت پر پوری قوم نے کسی اپنے کی موت کی طرح آنسو بہائے۔ گلی کُوچوں میں کھیلتی ہوئی ننھی بچیاں آج 74 برس بعد تک ’’لیاقت علی کو گولی لگی، ساری دنیا رونے لگی۔۔۔!‘‘ کی گردان کرتی ہوئی سنائی دیتی ہیں۔ کیا ایسا اور کوئی لیڈر ہے کہ جسے ہر طرف نظرانداز کردیا جائے، کوئی سیاسی جماعت اس کی نام لیوا نہ ہو اور کوئی موثر ذریعہ اِبلاغ اُسے یاد نہ کرتا ہو، اس کے باوجود لوگ اس کی یاد کو اپنے سینے سے لگائے رکھیں۔

مجھے معلوم ہے کہ اب شاید تم یہ کہو گے کہ اس ملک میں قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والے ’باچا خان‘ کے نام سے منسوب ہوائی اڈا تو موجود ہے، لیکن جب قومی اسمبلی میں راول پنڈی ایئر پورٹ کو لیاقت علی خان سے منسوب کرنے کی کوشش کی گئی تو، اس کی جگہ فوری طور پر بے نظیر بھٹو کا نام پیش کردیا گیا۔ مجھے یہ بھی علم ہے کہ عزیزآباد کے ’لیاقت علی خان چوک‘ المعروف ’مُکا چوک‘ سے میرا نشان ’مُکا‘ بھی 2017ء میں ہٹا دیا گیا، لیکن دوسری طرف میرے لہو کی سرخی سے ہی راول پنڈی کا کمپنی باغ آج بھی ’لیاقت باغ‘ کہلاتا ہے۔ کراچی میں لیاقت آباد، لیاقت نیشنل اسپتال، لیاقت میموریل لائبریری، شاہ راہ لیاقت، شہیدِ ملت روڈ، لیاقت علی خان روڈ (گلشن معمار) اور لیاقت کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسری وغیرہ بھی تو موجود ہیں۔

اور یہاں تو آدھا پاکستان توڑ دیا گیا اور کسی سے بھی کوئی بازپُرس نہیں ہوئی، اس لیے اگر ایسے ملک کے کسی راہ نما کے لیے گنجائش نہیں نکلتی یا اس کے لیے تنگ نظری دکھائی دیتی ہے، تو یہ تو پھر زندگی کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ تاریخ میں مختلف وجوہ کی بنا پر اکثر ایسا ہوتا رہتا ہے، لیکن یاد رکھنا، تاریخ کبھی تعصب نہیں کرتی، یہ ہمیشہ انصاف کرتی ہے، وہ قومی تنصیبات کو متنازع سیاسی راہ نماؤں سے منسوب کرنے کے باوجود بُھلا دیتی ہے اور کام کرنے والے ’بے نام‘ لوگوں کو بھی امر کردیتی ہے۔‘‘

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: لیاقت علی خان پاکستان کی پاکستان کے کے باوجود کردیا گیا کرتے ہیں قائد ملت کہنے لگے کی تصویر انھوں نے کے لیے ا دیا گیا نہیں کر ہے کہ ا کے بعد ملک کے اس ملک یہ بھی سے بھی

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ