شام کے صدر کا روس سے تاریخی و اسٹریٹجک تعلقات بحال کرنے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دمشق : شام کے صدر احمد الشرع کاکہنا ہے کہ دمشق روس کے ساتھ اپنے تاریخی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
روسی دارالحکومت میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر احمد الشرع نے کہا کہ ہم روس کے ساتھ اپنے ماضی کے تمام معاہدوں اور شاندار تاریخی تعلقات کا احترام کرتے ہیں اور انہی بنیادوں پر ان تعلقات کی بحالی کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شام اور روس کے درمیان قریبی سیاسی، دفاعی اور معاشی تعلقات ہمیشہ خطے میں توازن اور استحکام کی علامت رہے ہیں، شام کی توانائی کا بڑا حصہ روسی ماہرین کی خدمات پر انحصار کرتا ہے اور روسی کمپنیوں نے شام کے تیل و گیس کے شعبے میں طویل عرصے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔
احمد الشرع نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون صرف معاشی شعبے تک محدود نہیں بلکہ سلامتی، دفاعی ٹیکنالوجی، اور انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کے میدانوں میں بھی اسے وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اس موقع پر کہا کہ ماسکو شام کی علاقائی خودمختاری اور استحکام کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا، اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق شام اور روس کے درمیان گزشتہ کچھ سالوں میں تعلقات سرد مہری کا شکار رہے تھے، احمد الشرع کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دمشق نے روس کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کی بحالی کو خارجہ پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: احمد الشرع کے درمیان روس کے
پڑھیں:
پولیس کی زیر حراست تشدد اور ماورائے عدالت قتل پر سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پولیس کی زیر حراست تشدد اور ماورائے عدالت قتل پر تاریخی فیصلہ جاری کردیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کر دیا ہے کہ ریاست کی طاقت رکھنے والے ادارے کسی بھی صورت شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے اور نہ ہی زیر حراست افراد پر ظلم، بدسلوکی یا تشدد کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے یہ فیصلہ ایک ایسے کیس میں سنایا جس میں چند پولیس اہلکاروں پر الزام تھا کہ انہوں نے ڈیرہ غازی خان کے رہائشی زریاب خان کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا، تشدد کا نشانہ بنایا اور اس تمام عمل کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔
عدالت عظمیٰ نے اس پس منظر میں نہ صرف پولیس اہلکاروں کی اپیلیں مسترد کر دیں بلکہ تفصیلی فیصلے کے ذریعے اصولی طور پر یہ بات بھی طے کر دی کہ کسی شہری کو، چاہے وہ کسی جرم کا ملزم ہی کیوں نہ ہو، ریاستی تحویل میں غیر قانونی سلوک کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔
7 صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا کہ انسانی زندگی کا حق بنیادی ترین حق ہے اور آئینِ پاکستان ہر شہری کی جان، آزادی اور وقار کے تحفظ کا تقاضا کرتا ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ جب قانون نافذ کرنے والا کوئی بھی فرد اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کسی شہری کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھتا ہے، اسے تشدد کا نشانہ بناتا ہے یا ایسے اقدامات کرتا ہے جن سے اس کی جان یا عزت کو نقصان پہنچے، تو یہ نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انصاف کے پورے نظام پر سوال کھڑا کر دیتا ہے۔
عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بعض اوقات پولیس تشدد ماورائے عدالت قتل کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جو کہ انتہائی سنگین جرم ہے اور اسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پولیس کو گرفتاری کا مکمل اختیار ضرور حاصل ہے لیکن یہ اختیار آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے استعمال ہونا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ 24 گھنٹوں کے اندر ملزم کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے اور گرفتار شخص کو اس کی گرفتاری کی وجہ سے بھی لازماً آگاہ کیا جائے۔
فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 10 اور آرٹیکل 14 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ریاستی اداروں کو ہر حال میں شہریوں کی عزت، آزادی اور قانونی حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔ عدالت نے قرار دیا کہ غیر انسانی سلوک، ذلت آمیز رویہ، بربریت یا زبردستی اعترافِ جرم کرانے کا عمل کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں۔
فیصلے میں اس بات کو بھی اہم قرار دیا گیا کہ پولیس کے اندر موجود غلط رویوں کو روکنے کے لیے موثر، بیرونی اور مخصوص نگرانی کا نظام ناگزیر ہے تاکہ شہریوں کا اعتماد بحال رہے اور ریاست کی رٹ برقرار رہے۔
عدالت نے کہا کہ زریاب خان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ثبوت ہے کہ بعض اہلکار اپنے عہدے کو ذاتی اختیار سمجھ لیتے ہیں اور ایسے افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی نہ صرف ضروری ہے بلکہ قانون کی حکمرانی کے لیے لازمی بھی ہے۔ عدالت نے پولیس اہلکاروں کی نوکری سے برطرفی کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر پولیس محکمہ اپنے اندر سے ایسے عناصر کا خاتمہ نہ کرے تو شہریوں کا اعتماد مکمل طور پر مجروح ہو سکتا ہے۔