UrduPoint:
2026-06-03@04:39:04 GMT
الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کے ارکان اسمبلی کو آزاد قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔09 اکتوبر ۔2025 ) الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کے ارکان اسمبلی کو آزاد قرار دیدیا ہے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلیوں میں پی ٹی آئی سے وابستہ تمام ارکان اب آزاد ہیں یہ فیصلے ایسے وقت میں آیا ہے جب کے پی کے میں نئے وزیراعلی کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہونے جاری ہے.
(جاری ہے)
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے25 اگست 2025 کے تفصیلی فیصلے کے بعد اراکین کی وابستگی پی ٹی آئی یا سنی اتحاد کونسل سے ظاہر نہیں ہوگی سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے فیصلے کی روشنی میں قومی اسمبلی سمیت صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن بھی تبدیل ہوگئی الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی، پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ اسمبلی کی پارٹی پوزیشنز سے متعلق نئی فہرستیں جاری کردیں. نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کے ارکان اسمبلی کے حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے تمام ارکان کو آزاد قرار دیا ہے، تمام اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشنز میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور نئی فہرستیں جاری کردی گئی ہیں. واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 2 اکتوبر 2025 کو مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ فریق بنے بغیر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ریلیف ملا جو برقرار نہیں رہ سکتا جب کہ پی ٹی آئی چاہتی تو فریق بن سکتی تھی اور سپریم کورٹ کو آئین کی تشریح کرتے ہوئے اسے دوبارہ لکھنے کا اختیار نہیں ہے. سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ تمام ججز کا اتفاق تھا کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں تھی اور عدالت نے سنی اتحاد کونسل کی دونوں اپیلیں متفقہ طور پر خارج کی تھیں جب کہ سنی اتحاد کونسل نے ان اپیلوں کے خارج ہونے کے خلاف کوئی درخواست دائر نہیں کی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ کیس کے حقائق کے تناظر میں آرٹیکل 187 کا استعمال نہیں کیا جا سکتا اس کا اطلاق کرکے ایسے فریق کو فائدہ دیا گیا جو عدالت کے سامنے موجود ہی نہیں تھا جب کہ ارکان اسمبلی کو ڈی نوٹی فائی کیا گیا اور وہ ریلیف دیا گیا جو آئین کے دائرہ کار سے باہر تھا.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اور سنی اتحاد کونسل کے الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے ارکان اسمبلی اسمبلیوں میں تحریک انصاف پی ٹی آئی تھا کہ
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔