زباں فہمی264 ; کچھ ’نکاتِ سخن ‘ کے بارے میں (حصہ چہارُم)
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
جائے بمعنیٰ جگہ
حسرت ؔ موہانی نے ارشاد فرمایا کہ جگہ کے معنیٰ میں جائے بولنا غالبؔ کے تلامذہ کے عہد تک رَوا تھا، مگر بالاتفاق متروک ہوگیا، البتہ دِلّی والے بول چال میں اب بھی برتتے ہیں۔ اب اس لفظ کے شعر میں استعمال کی مثالیں دیکھیں:
ذوقؔ کا یہ شعر تو مشہور ِ زمانہ ہے:
سر بَوقتِ ذِبح، اُس قاتل کے زیرِپائے ہے
یہ نصیب اللّہ اکبر! لوٹنے کی جائے ہے
پھر اُنہی کے ہم عصر مومنؔ نے کہا:
کردیے اپنے آنے جانے کے
تذکرے جائے جائے لوگوں نے
ان کے خُرد معاصر زکیؔ دہلوی، تلمیذ ِ غالبؔ کا شعر ہے:
تادم ِ مرگ زکیؔ سے گئی ہر سا ل گرہ
رشتہ عمر بہت جائے سے ٹُوٹا نکلا
علامتِ فاعل ’نے‘ کا حذف
مصحفیؔ کے قدیم (یعنی ابتدائی) تلامذ ہ کے عہد تک اس کا استعمال جاری تھا، مگر پھر متروک ہوا تو اُنہی کے آخری شاگردوں مثلِ آتشؔ اور اَسیرؔ کے یہاں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ناسخؔ کی اصلاحِ زبان کی تحریک کے اتباع میں ایسا ممکن ہوا۔ قائمؔ چاندپوری کا شعر ہے:
عِوَض طرب کے گزشتوں کا ہم نے غم کھینچا
شراب اَوروں نے پی اور خمار ہم کھینچا
میرحسنؔ:
ہر اِک دل وجاں کے مرغوب نظر آئے
میں خوب تمھیں دیکھا ، تم خوب نظر آئے
مُصحفیؔ:
اِک ذرا دیکھیو اُس رشکِ پری کا سونا
میں تو دیکھا نہیں، اُس بے خبری کا سونا
جرأتؔ:
نہ جواب لے کے قاصد جو پھِرا شتاب اُلٹا
میں زمیں پہ ہاتھ مارا، بصد اضطراب اُلٹا
’’رہوے‘‘ بجائے ’رہے‘
یہ لفظ حسرتؔ موہانی کے دور میں بالاتفاق متروک ہوچکا تھا۔ مثال:
مخمورؔ:
مخمور ہے، دعا رہے، مستوں کا دل خُنک
مے کی صراحی برف میں رہوے صدا لگی
یہاں توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ لفظ ’خُنک‘ کا نون بھی متحرک ہے جو فارسی کے قاعدے سے صحیح ہے، ورنہ ہمارے یہاں لوگ اسے ساکن پڑھتے اور بولتے ہیں۔ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کا مشہور شعر ہے:
خاکِ یثرب از دو عالم خوش تر است
اے خنک شہرے کہ آنجا دلبر است
(دلبر سے مراد نبی کریم ﷺ کی ذات ِ اقدس ہے)
یہاں بھی نون متحرک ہی ہے۔
’زور ‘ بجائے عجیب و خوب و کثیر
یہ متروک لفظ بہت ہی چونکا دینے والا ہے۔ اب تو کوئی بھی نہیں جانتا کہ لفظ زور کے مطالب میں عجیب، خوب اور کثیر بھی شامل تھا۔ بقول مؤلف موصوف، یہ لفظ میرؔ سے لے کر ناسخؔ کے تلامذہ تک مستعمل رہا، مگر پھر متروک ہوگیا۔ ایسے الفاظ کا مختلف معانی میں استعمال یقیناً شعر فہمی میں ابہام پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ فقط ایک مثال سحرؔ لکھنوی کے شعر میں ملاحظہ فرمائیں:
ایک ہی بہروپیا ہے، دل بھی کوئی زور ہے
بزم میں سروِ چراغاں ہے، چمن میں مور ہے
اس شعر کی تشریح آج کے دور میں کسی بھی معلم کے لیے محال ہے۔
’کسُو‘ اور ’کبھو‘
یہ دونوں الفاظ غالبؔ ، ذوق ؔاور مومن ؔکے دور تک رائج اور رَوا رہے، جبکہ ناسخؔ کے دور میں لکھنؤ میں ان کا استعمال ترک کردیا گیا تھا۔ میرؔ کا مشہور ترین شعر ہے:
دل سے شوخِ رُخ نکو نہ گیا
تاکنا کہ جھانکنا کبھو نہ گیا
{اضافہ راقم: یہاں رُک کر ذرا توجہ کیجئے کہ لفظ ’نکُو‘ (Naku) بغیر ضمّہ (پیش) یا واؤ مجہول کی آواز کے ساتھ، دکن اور ناگ پور (مہاراشٹر) وغیرہ میں رائج ہے یعنی نَکو (Nako);معنیٰ وہی ہیں: نہیں، کبھی نہیں۔ یہی ’نکو ‘ اگر اعراب کے فرق سے لکھا جائے تو ایک دوسرا لفظ بنتا ہے جو فارسی سے مستعار ہے، ’نِکو‘ یعنی نیکو، نیک، نیکوکار۔ اب نِکو کا استعمال بھی ملاحظہ فرمائیں:
جو اَزل میں قلم چلی سو چلی
بد ہو ا یا نِکو ہوا سو ہوا
(شیخ ظہورالدین حاتم)
(یہاں لفظ قلم بطور ِ شاخ اور مؤنث استعمال ہوا ہے یعنی وہ سبز شاخ جو پودے کی کاشت کے لیے، درخت سے کاٹ کر الگ لگائی جاتی ہے)۔ حاتمؔ 1699ء میں پیدا ہوئے اور 1791ء میں فوت ہوئے۔ اردو کے قدیم شعراء میں اُنھیں اُستاد کا درجہ حاصل ہوا۔ وہ فارسی میں صائبؔ تِرمِذی کے مقلّد اور ریختہ یعنی اُردو میں ولیؔ گجراتی دکنی کے متبع تھے۔ اُن کے تلامذہ میں میرزا محمد رفیع سوداؔ بہت بڑے شاعر ہو گزرے ہیں۔ ولیؔ کی تقلید کا مطلب یہ ہوا کہ حاتمؔ کی زبان اپنے عہد کی اُس روِش کی ترجمان تھی جب شِمالی وجَنوبی ہند کی ادبی زبان مِلی جُلی تھی اور دونوں جہتوں میں ایک دوسرے سے استفادے کا عمل جاری تھا}۔
اور میرؔ ہی کے شعر میں لفظ کسُو کا استعمال دیکھیے:
ہم جانتے تو عشق نہ کرتے کسو کے ساتھ
لے جاتے دل کو خاک میں آس آرزو کے ساتھ
’نت‘ بمعنیٰ ہمیشہ
اس کے ترک کے بارے میں حسرتؔ نے کچھ نہیں لکھا، مگر مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ غالباً مصحفی ؔ کے تلامذہ ازقسمے محمد عیسیٰ تنہاؔ کے دور تک رائج رہنے کے بعد، ترک ہوگیا تھا۔
’وَیا‘ بجائے ’یا‘
یہ بھی بہت سے جدید اہل قلم اور قارئین کے لیے انوکھا لفظ ہے۔ اس متروک لفظ کا استعمال خواجہ وزیرؔ لکھنوی اور میرزا مچھو بیگ عاشق ؔ لکھنوی کے یہاں نظر آتا ہے۔ مثال:
خواجہ وزیرؔ:
نہ آؤ خوش رہو جس جا رَہو مِرے صاحب
مِلو وَیا نہ ملو ہم نباہ کرتے ہیں
عاشقؔ:
نشے میں تم بہکتے ہو خبر اِتنی نہیں رکھتے
کہ آتا ہے کوئی اپنا وَیا بیگانہ آتا ہے
وہی کی بجائے ’ووہی‘ اور ’ووہیں‘ بجائے وہیں۔ یہی کی بجائے ’یہ ہی‘
یہ الفاظ دِلّی میں مومنؔ ، غالبؔ، میرزا صابرؔ اور لکھنؤ میں ناسخؔ کے دور تک رائج رہنے کے بعد متروک ہوگئے تھے۔
ووہیں:
میرؔ:
وے میگُسار ظرف جنھیں میکشی کے تھے
بھر کر نگاہ تُو نے جو کی ووہیں چھک گئے
ووہی:
مومنؔ:
دونوں کا ایک حال ہے یہ مدعا کا ہوش
ووہی خط اُس نے بھیج دیا کیوں جواب میں
یہ ہی:
غالبؔ:
صَرفِ بَہائے مے ہوئے آلاتِ میکشی
تھے یہ ہی دو حساب سو یوں پا ک ہوگئے
(صَرفِ بہائے مَے ہوئے: شراب کی قیمت میں استعمال ہوئے)
’اُس ہی‘ بجائے اُسی ، ’ہم ہی‘ بجائے ہمیِں اور ’تم ہی‘ بجائے تمھیں/تمہیں
یہ اُن متروکات میں شامل ہیں جنھیںمیر حسنؔ اور پھر غالب ؔ کے، بلکہ سائل ؔ شاگردِداغؔ دہلوی کے دورتک رَوا رکھا گیا۔
میرحسنؔ:
شب چاندنی میں مُکھڑا کس کا دمک رہا تھا
مہتاب کا بھی دِیدہ اُس ہی کو تَک رہا تھا
غالبؔ:
دھول دھَپّا اُس سراپا ناز کا شیوہ نہ تھا
ہم ہی کربیٹھے تھے غالبؔ، پیش دستی ایک دن
سائل ؔ دہلوی (جانشین ِ داغؔ): مجھ میں اور غیر میں انصاف سے کہہ دو تم ہی.
مؤلف نے اس شعر کا دوسرا مصرع قصداً چھوڑ دیا ہے کہ بات پہلے ہی مصرع میں واضح ہوچکی ہے۔
یہاں حسرتؔ موہانی نے برملا اس بابت تأسف کا اظہار کیا ہے کہ ترک قراردینے کے باوجود، روزمرّہ کے استعمال میں ایسے الفاظ یا تراکیب میں اہل پنجاب کا اثر بھی دکھائی دیتا ہے جیسے فقرہ ’اُس کو ہی‘ اور ’اُس نے ہی‘ ۔یہ غلط زبان آج زور پکڑ چکی ہے اور ادبی تحریروں میں بھی عام ہے ۔ہمارے اہل قلم زبان وبیان کا علم کبھی بھی سیکھنے کی زحمت نہیں کرتے ;جس طرح پیدائشی کلمہ گو ہونے کے ناتے ، دین کی تعلیمات سیکھے بغیر ہی کام چلارہے ہیں، اُسی طرح اہل زبان گھرانے میں پیدا ہونے کے سبب، جیسا سمجھ میں آیا، جو اِدھر اُدھر سُنا دیکھا، لکھ ڈالا .....کون دیکھے گا یا پوچھے گا کہ بھیا! یہ کیا لکھا ہے اور کیوں؟
پر۔اور۔پہ بجائے لیکن /مگر
یہاں مؤلف موصوف سے بصد احترام اختلاف کرتے ہوئے راقم سہیل عرض کرتا ہے کہ ہرچند ’پر‘ اور ’پہ‘ متروک قراردیے جاچکے تھے، لیکن اکیسویں صدی میں جہاں بول چال میں ان کا استعمال عام ہے ، وہیں ادبی زبان میں بھی اس سے اجتناب نہیں کیا جاتا۔ یہ اور بات کہ استعمال کرنے والے کو کوئی نہ کوئی ٹوک دیتا ہے۔ ان دو مماثل الفاظ یا ایک ہی لفظ کے دو رُوپوں کے استعمال کی مثالیں حسرتؔ نے جرأت، مسرورؔ ، قائمؔ، مذاق ؔ بدایونی، شیفتہ ؔ، غالبؔ، میر حسن تسکینؔ، اسیرؔ، سحرؔ لکھنوی، عرشؔ لکھنوی، لطافتؔ اور خود اپنے اشعار نقل کرکے دی ہے۔منقول اشعار میں غالبؔ کا یہ مشہور شعر شامل ہے:
غم اگرچہ جاں گُسل ہے ، پہ بچیں کہاں کہ دل ہے
غم ِ عشق گر نہ ہوتا ، غمِ روزگار ہوتا!
ہرچند کہ یہ شعر ’حُسنِ تکرار‘ کا عمدہ نمونہ ہے، مگر غالبؔ ہی کا ایک اور شعر بھی اسی طرح ’پہ‘ کے استعمال کے لیے مشہور ہے جو حسرتؔ کو نقل کرنا یاد نہ رہا:
تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اُڑیں گے پُرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
{اس شعر کا انگریزی ترجمہ پہلے پہل کسی صاحب نے بہت ہی مضحکہ خیز اَنداز میں کیا جو ہمارے بزرگ معاصر جمیل الدین عالیؔ مرحوم نے اپنے کالم میں نقل کیا، پھر خاکسار سہیل نے ایک وڈیو فلم کے لیے (بطور مصنف +اداکار) خاکے لکھتے ہوئے اُسی پیرائے میں کچھ بدل کر کیا اور داد سمیٹی۔ یہ واقعہ اواخر 1988ء کا ہے اور وڈیو فلم کی عکس بندی کی ابتداء جنوری 1989ء میں ہوئی تھی:
The news was hot that the spare parts of Ghalib will fly in the air
We went to see there, but, there was no play performed}
میری رائے میں اسے ترک قرار دینا حسرتؔ موہانی کی شدّت پسندی کا ثبوت ہے ، کیونکہ یہ تو آج بھی رائج ہے اور اہل ِ زبان میں کہیں بھی کوئی بھی اسے قدیم یا متروک نہیں سمجھتا۔ یہاں مؤلف موصوف نے مثال کے لیے مُصحفیؔؔ اور زَکیؔ کے شعر نقل کیے ہیں۔
نِکات ِ سخن کی فصل ِ سِوُم میں ’متروکات ِ جائز ‘ کے عنوان کے تحت صفحہ نمبر 52تا 77متعدد الفاظ یا تراکیب نقل کرکے اُن کی مثالیں پیش کیں اور اُن کے یکسر یا جُزوی متروک ہونے کی بابت اظہارِخیال فرمایا۔
اُس پاس بجائے اُس کے پاس
بقول مؤلف ’’یہ بالاتفاق متروک ہے، البتہ اسمائے معرِفہ کے ساتھ صرف ’پاس‘ کا استعمال بھی کہیں کہیں بُرا نہیں معلوم ہوتا ‘‘۔ اس کے بعد انھوں نے غالبؔ، شاہ حاتم ؔ، جرأت اور ناسخؔ کے نمونہ ہائے کلام پیش کیے ہیں;ترتیب میں شاہ حاتم ؔ پہلے ہیں، مگر شاید حسرتؔ نے اس بات کو اہمیت نہیں دی۔
جرأت :
میں ہی رہ جاتا ہوں، اُس پاس جو محفل میں تو وہ
بس کسی کے تئیں جلدی سے بُلا لیتا ہے
آن بجائے آکے
’آن‘ بجائے ’آکے ‘ یا ’آکر‘ شاعری کی زبان میں یقینا متروک ہوئے مدت گزری، مگر اہل زبان کے گھروں میں اب بھی کہیں کہیں روزمرّہ میں شامل ہے۔ دُور کیوں جائیں میرے برادرِ خُرد جنید احمد صدیقی ایسے متعدد الفاظ بولنے کے عادی ہیں جو خود ہم لو گ ترک کرچکے ہیں۔ مثال:
حسرتؔ موہانی :
اِک خلش ہوتی ہے محسوس، رگِ جاں کے قریب
آن پہنچے ہیں مگر منزلِ جاناں کے قریب
یہ بھی حسرتؔ ہی کا خاصّہ ہے کہ متروکات اور جائز ناجائز کے ضمن میں اپنا پرانا کلام بھی نقل کردیتے ہیں۔ اتنی کڑی تنقیدی سوچ اور عمل آج بھی خال خال نظر آتا ہے۔ ہمارے اکثر مشاہیر بشمول خُرد معاصرین اپنے کلام کو نظرِثانی یا ترمیم واضافہ کے لائق نہیں گردانتے، بس جو کہہ دیا، سو کہہ دیا۔ (کچھ عرصہ قبل ایک متشاعرہ سے فیس بک میسنجر پر بات چیت میں اُس کی پول اسی طرح کھُلی کہ ’’لکھ کر‘‘ عطا کرنے والے مہاشے بزرگ شاعر نے غلط لکھ دیا اور وہ مُصِر تھی کہ بس اس میں کسی ترمیم واضافہ کی قطعاً گنجائش نہیں، جو کہہ دیا اور فیس بک پر اپنی وڈیو میں پڑھ دیا، وہ بالکل صحیح یعنی ’حرفِ آخر‘ ہے۔ پورا معاملہ یوں صاف ہوگیا کہ وہ اپنے استاد کا نام بتانے پر آمادہ نہ تھی، ورنہ اُستادِموصوف کی اصلاح ہم جیسے ہیچ مدآں بھی کردیتے۔ جب شاعری میں نہایت نجی معاملات دَرآئیں تو یہ سب بھی دیکھنے کو ملتا ہے) ۔
آئے ہے، جائے ہے، جاؤ ہو، بجائے آتا ہے، جاتا ہے، جاتے ہو و دیگر مماثل فقرے
پہلے حسرتؔ کا ابتدائی بیان ملاحظہ فرمائیں پھر راقم کی رائے: ’’آئے ہے اور جاؤ ہو، نواح ِ دہلی مثل ِ میرٹھ، بلند شہر وعلی گڑھ میں آج تک عوام کی زبان پر جاری ہے مگر تحریرِ نثر ونظم میں اب لکھنؤ کے مانند دہلی میں بھی یہ الفاظ بالاتفاق متروک سمجھے جاتے ہیں۔ (جاری)
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا استعمال کے تلامذہ کے ساتھ کی مثال ا تا ہے کے شعر ہے اور کے دور کے لیے شعر ہے
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔