میجر سبطین حیدر شہید کی نماز جنازہ چکلالہ گیریژن راولپنڈی میں ادا کی گئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)ڈی آئی خان کے علاقے درابن میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن میں شہید ہونے والے میجر سبطین حیدر کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق میجر سبطین حیدر شہید کی نماز جنازہ چکلالہ گیریژن راولپنڈی میں ادا کی گئی،وزیرعظم شہبازشریف، فیلڈمارشل سیدعاصم منیر، وزیر اطلاعات، فوجی و سول افسران اور عوام نے نمازجنازہ میں شرکت کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شہید کا جسد خاکی آبائی علاقے روانہ کردیاگیا،شہید کو فوجی اعزاز کےساتھ آبادئی علاقے میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
وہ نہیں مان رہا، یہ ”نیکسٹ لیول“ کا پاکستان ہے،گنڈا پور ”سینڈوچ“ بن چکا تھا،”ظالمو، گنڈا پور چلا گیا ہے“ آنیاں جانیاں لے بیٹھیں
وزیراعظم شہبازشریف نے شہید میجر سبطین حیدر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ فتنہ الخوارج جیسے نظریات کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
یادرہے کہ سکیورٹی فورسز نے ڈی آئی خان کے علاقے درابن میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیاتھا، آپریشن میں بھارتی سپانسرڈ 7خوارج مارے گئے تھے،فائرنگ کے تبادلے میں میجر سبطین حیدر شہیدہو گئے،میجر سبطین حیدر شہید کا تعلق کوئٹہ سے تھا، میجر سبطین حیدر نے بہادری سے دستے کی قیادت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: میجر سبطین حیدر شہید
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔