سہیل آفریدی کےعشق کا بھوت خود عمران خان اتاریں گے، سعدرفیق
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور:پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ وقت آنے پر نو منتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے عشق کا بھوت خود عمران خان ہی اتاریں گے۔
اس حوالے سے اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ شیر افضل مروت سے پہلی اتفاقیہ ملاقات چند ماہ پیشتر اسپیکر چیمبر میں ہوئی، وہاں دیگر اراکین اسمبلی بھی موجود تھے۔
شیر افضل مروت جا رہے تھے اور میں آ رہا تھا، مصافحہ کے بعد میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ ب ±را نہ مانیں تو ایک بات کہ دوں، جس پر وہ بولے ضرور تو عرض کیا جب عمران خان جیل سے واپس آئیں گے تو جس شخص کو سب سے پہلے پی ٹی آئی سے نکالیں گے وہ شخصیت آپ ہوں گے۔
سابق وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ دو ماہ نہیں گزرے تھے کہ پارلیمنٹ لاجز میں گزرتے ہوئے پھر آمنا سامنا ہوگیا، تب تک عمران خان شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکال چ ±کے تھے، ہم نے ایک دوسرے کو دیکھتے ہی ہنسنا شروع کردیا۔
شیر افضل بولے آپ کی پیشگوئی وقت سے پہلے ہی پوری ہو گئی، میں نے پوچھا اتنا جلدی کیسے ہوا؟ تو انہوں نے بتایا میرا اخراج عمران خان کی ہمشیرہ اور اہلیہ کی باہمی گروپنگ نہ جوائن کرنے کا شاخسانہ ہے۔
خواجہ سعد رفیق کہتے ہیں کہ ’مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ بھولے بادشاہ لگتے ہیں، وہ بھی عشقِ عمران میں مبتلا ہیں۔
یہ کم بخت مڈل کلاسیے سیاسی کارکن اسٹریٹ فائٹر ہوتے ہیں، لیڈر اور جماعت کے عشق میں لڑتے لڑتے تنِ تنہا تلوار سونت کر مخالف کی صفوں میں گھ ±س جاتے ہیں اور سب سے پہلے مارے جاتے ہیں لیکن اگر خوش قسمتی سے بچ کر واپس آ جائیں تو اپنے مار دیتے ہیں۔
ان غیر منظم اور نیم جمہوری جماعتوں میں سازشی جیتتے ہیں تلخ سچ بولنے والے نہیں، مڈل کلاسیوں کو تھپکی لڑنے کےلیے دی جاتی ہے حکمرانی کےلیے نہیں، وقت آنے پر سہیل آفریدی کے عشق کا بھوت خود عمران خان ہی اتاریں گے۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شیر افضل
پڑھیں:
بانی پی ٹی آئی کی طبیعت ناسازی سے متعلق خبروں پر سخت تشویش ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
اڈیالہ روڈ پر فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے تمام قانونی اور جمہوری راستے اپنائے ہیں، میں تو دھرنے میں آنا چاہتا تھا لیکن بانی کی بہنوں نے منع کیا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلی محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی طبیعت ناسازی سے متعلق خبروں پر سخت تشویش ہے اور ملاقات کے ذریعے اسے تشویس کو دور نہ کیا گیا تو پوری قوم سڑکوں پر ہو گی۔ اڈیالہ روڈ پر فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے تمام قانونی اور جمہوری راستے اپنائے ہیں، میں تو دھرنے میں آنا چاہتا تھا لیکن بانی کی بہنوں نے منع کیا۔ انہوں نے کہا کہ بانی کی ہدایت پر حکومت سے مذاکرات ہوئے لیکن ان کے پاس تو کوئی اختیار ہے ہی نہیں، جو 8 فروری کو ہوا وہی 23 نومبر کو بھی ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ ضمنی انتخاب میں 95 فیصد لوگ ووٹ دینے نہیں نکلے، پنجاب کے عوام نے ووٹ نہ دے کر بانی پی ٹی آئی سے اظہار یک جہتی کیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر ہمارے خدشات بڑھ رہے ہیں، ہمارے پاس آخری راستہ بھی ہے اس پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں نے کسی سے بات کرنے کی بات نہیں کی کیونکہ ان کے پاس مینڈیٹ ہی نہیں ہے، صحافیوں کو چاہیئے وہ حکومت سے 5 ہزار 300 ارب کی کرپشن پر بات کرے، یہ پیسہ عام آدمی کے ٹیکس کا پیسہ ہے یہ اربوں روپے کھا گئے اور ڈھکار بھی نہیں ماری۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری آسمان کو چھو رہی ہے، نوجوان پاکستان چھوڑ کر جا رہے ہیں، این ایف سی میں اپنے صوبے کا مقدمہ لڑوں گا اور اجلاس میں شرکت کروں گا جبکہ حکومت نے چار مرتبہ ایف ایف سی اجلاس ملتوی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبیعت ناسازی بارے جو خبریں یا افواہیں آرہی ہیں، اس سے تشویش بڑھ رہی ہے، چاہتے ہیں بانی سے ملاقات کرکے ان کی صحت کے بارے میں دریافت کریں۔
قبل ازیں اڈیالہ پہنچنے پر وزیر اعلی سہیل آفریدی کا فیکٹری ناکے پر پولیس افسران سے مکالمہ ہوا اور انہوں نے پولیس افسران سے مخاطب ہو کر کہا کہ گزشتہ مرتبہ بھی مجھے روکا گیا تب بھی میں نے کہا تھا مجھے تحریری طور پر بتائیں کہ عدالتی احکامات کیوں نہیں مان رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج تو بتا دیں، یہاں پر زبردستی حالات کو خراب کیا جا رہا ہے، ایک صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، کل دوسرے صوبے میں کسی اور کے ساتھ یہ ہو گا تو وہ آپ کو اچھا لگے گا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ نفرتیں اور تلخیاں پاکستان کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں، آٹھویں مرتبہ شرافت سے آرہا ہوں، اپ سے بات کرتا ہوں اور آرام سے بیٹھ جاتا ہوں، راولپنڈی بار بار پشاور سے آنا اور اڈیالہ سے واپس چلے جانا یہ کوئی آسان بات تو نہیں ہے۔