پیرول پر رہا کریں، افغانستان کا مسئلہ حل کر دوں گا، عمران خان کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِاعظم عمران خان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی اور دیگر تنازعات کے حل کی پیشکش کی ہے، بشرطِ یہ کہ انہیں پیرول پر رہا کیا جائے۔
عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں، جہاں وہ 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت 9 مئی کے مظاہروں سے متعلق مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان مذاکرات کے لیے تیار، لیکن بات صرف ’بڑوں‘ سے ہوگی، وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور
اڈیالہ جیل کے باہرعمران خان سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ آج عمران خان نے پیغام دیا ہے کہ انہیں پیرول پر رہا کیا جائے تو وہ افغانستان کا مسئلہ حل کردیں گے۔
دوسری جانب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار دہشت گردی کے معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی حالیہ دنوں میں مسلح جھڑپوں میں تبدیل ہوگئی، جن میں دونوں جانب متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، تین روزہ جھڑپوں کے بعد آج ایک عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔
اس سے قبل عمران خان کی بہن نورین نیازی نے بھی بتایا کہ پی ٹی آئی کے بانی کو افغان پناہ گزینوں کی جلد بازی میں ملک بدری پر دکھ ہے، خاص طور پر اس کے بعد جب پاکستان نے انہیں دہائیوں تک پناہ دی۔
مزید پڑھیں:مجھے امید ہے سہیل آفریدی میری سوچ کو لیکر عوام کی بہتری اور صوبے میں امن کے لیے کام کریں گے، بانی پی ٹی آئی عمران خان
نورین کے مطابق عمران خان نے کہا کہ امن قائم کرنا سیاست دانوں کا کام ہے، اور اگر انہیں پیرول پر رہا کیا گیا تو وہ اس مقصد کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔
’انہیں سوچنا چاہیے کیونکہ پاکستان کے حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ 30 لاکھ لوگ ملک چھوڑ چکے ہیں، بین الاقوامی کمپنیاں ملک چھوڑ کر جا رہی ہیں اور غیرملکی سرمایہ کاری ختم ہو گئی ہے۔‘
عمران خان کی بہن نے شبہ ظاہر کیا کہ ان کے بھائی کی پیشکش شاید قبول نہ کی جائے۔ ’عمران خان کہتے ہیں کہ ملک کو امن کی ضرورت ہے، اور امن صرف سیاسی استحکام سے آتا ہے۔‘
مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا حکومت کا وفد افغانستان جانے کو تیار، کیا امن و امان میں بہتری آسکتی ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عمران خان کے اکاؤنٹ پر جاری پیغام میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی بناتے وقت تمام متعلقہ فریقین کو شامل کیا جانا چاہیے، خواہ وہ مقامی قبائل ہوں، خیبرپختونخوا کی حکومت، وفاقی حکومت یا افغان حکومت۔
’دہشت گردی کا مسئلہ افغان حکومت سے مذاکرات کے بغیر حل نہیں ہو سکتا۔‘
عمران خان نے خیبرپختونخوا کی نئی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کر کے دہشت گردی کے خلاف ایک مؤثر اور جامع حکمتِ عملی تیار کرے تاکہ صوبے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بیرسٹر گوہر علی خان پی ٹی آئی پیرول عمران خان.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل بیرسٹر گوہر علی خان پی ٹی ا ئی پیرول پیرول پر رہا کے لیے
پڑھیں:
دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ
2025 اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، مگر دہشت گردی کے واقعات میں کوئی کمی نظر نہیں آ رہی، خاص طور پر خیبر پختونخوا میں۔ گزشتہ سیکورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر دہشت گردوں کے ممکنہ بڑے حملے کو ناکام بنا دیا
اس طرح ایک بڑی تباہی ٹل گئی۔ اس واقعے میں کم از کم تین سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے، جبکہ کئی دہشت گرد مارے گئے۔ ایک خودکش حملہ
آور نے عمارت کے داخلی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑایا، جبکہ اس وقت سینکڑوں اہلکار ایف سی ہیڈکوارٹر کے اندر موجود تھے۔یہ حملہ اسی
نوعیت کے اس حملے سے مشابہ تھا جو رواں ماہ کے آغاز میں وانا کیڈٹ کالج پر کیا گیا تھا، جہاں دہشت گرد کسی بڑے نقصان سے پہلے ہی مار
دیے گئے تھے۔ جہاں تک پشاور حملے کے ذمہ داروں کا تعلق ہے، سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں افغان شہری ملوث تھے، جب کہ بعض
تجزیہ کاروں نے جماعت الاحرار جو کالعدم ٹی ٹی پی کا دھڑا ہے کی شمولیت کی طرف اشارہ کیا ہے۔اگر واقعی جماعت الاحرار ملوث ہے اور
اس کے اشارے موجود ہیں تو یہ انتہائی تشویش ناک بات ہے۔ اس گروہ نے متعدد خونی حملے کیے ہیں، جن میں جنوری 2023 کا پشاور پولیس لائنز سانحہ بھی شامل ہے۔
صوبائی دارالحکومت کے وسط میں ایک محفوظ تنصیب کو نشانہ بنا لینا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ سیکورٹی
فورسز کو خفیہ معلومات کے حصول اور انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری لانا ناگزیر ہے۔ دہشت گرووں کی جانب سے
پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر ہونے والایہ حملہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا
خطرہ نہ صرف موجود ہے بلکہ اپنی پوری شدت کے ساتھ ملک کی سلامتی اور امن کو چیلنج کر رہا ہے۔ یہ حملہ صرف ایک عمارت یا چند افراد پر نہیں
تھا، بلکہ یہ پاکستان کی ریاست، اس کے اداروں اور اس کی سالمیت پر حملہ تھا۔دہشت گردوں کے عزائم ہمیشہ سے یہی رہے ہیں کہ وہ خوف
پھیلائیں، ریاست کو کمزور دکھائیں اور دنیا کو باور کرائیں کہ پاکستان عدم استحکام کا شکار ہے، مگر اس بار بھی، ہمیشہ کی طرح، ہمارے سیکیورٹی
اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کر کے نہ صرف حملے کو محدود کیا بلکہ تینوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کر کے دشمن کے ارادے خاک میں ملا
دیے۔یہ امر نہایت قابل توجہ ہے کہ3 مسلح دہشت گرد بغیر کسی رکاوٹ یا چیکنگ کے حساس ادارے کے قریب ت کیسے پہنچ گئے، اگرچہ
سیکورٹی فورسز نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ ناکام بنایا، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے عناصر شہر کے اندر تک کیسے داخل ہوئے؟
موٹر سائیکل کی برآمدگی، دستی بموں اور کلاشنکوفوں کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ حملہ نہایت منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔پاکستان میں دہشت
گردی کی نئی لہر کا براہِ راست تعلق افغانستان کی موجودہ صورتحال سے جوڑا جا رہا ہے۔ یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں کہ افغانستان کی سرزمین
پچھلے کئی برسوں سے پاکستان مخالف گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کا کردار ادا کر رہی
ہے۔افغانستان کی عبوری حکومت نے دنیا سے وعدے کیے تھے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے
گی، لیکن عملی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں کی تعداد میں اضافہ، ان کے حملوں کی
شدت اور اسلحے کی جدید اقسام کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اب محض چند چھوٹے
گروہوں کا کھیل نہیں رہا بلکہ اس کے پیچھے منظم نیٹ ورک، تربیت یافتہ عناصر اور ریاست مخالف ایجنڈے کو پروان چڑھانے والی قوتیں
سرگرم ہیں افغانستان اور بھارت کا تعلق اس معاملے میں بھی بار بار زیرِ بحث آ رہا ہے۔
یہ حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ بھارت خطے
میں پاکستان کو کمزور کرنے کی پالیسی پرگامزن ہے اور افغانستان اس کے لیے ایک کلیدی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ افغانستان میں بھارتی
اثرورسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، اور بھارت کی جانب سے وہاں کیے گئے سرمایہ کاری کے نام پر ایسے ڈھانچے قائم کیے گئے جن کا مقصد
پاکستان مخالف کارروائیوں کو سہولت دینا تھا۔ آج بھی، جب خطے کی صورتحال بدل چکی ہے، بھارتی نیٹ ورک مختلف روپوں میں فعال ہیں
اور وہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف پراکسی کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ یہ نہ صرف پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ خطے کی
مجموعی امن و استحکام کے لیے بھی تشویش ناک امر ہے۔پاکستان نے افغانستان کے لیے ہمیشہ اپنا دامن خیرسگالی سے بھرا رکھا۔ لاکھوں
افغان مہاجرین کی میزبانی سے لے کر افغان امن مذاکرات کی حمایت تک، پاکستان نے ہر موڑ پر خیر خواہی ثابت کی لیکن افغان عبوری
حکومت کی جانب سے اس کا جو بدلہ دیا جا رہا ہے، وہ افسوسناک ہے۔ سرحد پار سے بڑھتی دہشت گردی، پاکستان مخالف دھڑے مضبوط
ہونے، اور افغان سرزمین کے دہشت گردوں کے لیے استعمال ہونے جیسے اقدامات نہ صرف اعتماد کے رشتے کو مجروح کر رہے ہیں بلکہ
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔افغانستان کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ اگر وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے
کے عزائم رکھنے والوں کے ہاتھوں استعمال ہوتا رہے گا تو وہ خود بھی طویل المدتی نقصان سے نہیں بچ سکے گا۔ دہشت گرد کسی کے وفادار نہیں
ہوتے، وہ صرف تباہی کی زبان سمجھتے ہیں، اور اگر انھیں وقت پر لگام نہ ڈالی گئی تو ان کا رخ بغاوت اور خونریزی کی طرف ہی ہوتا ہے، جس
سے کوئی ملک محفوظ نہیں رہتا۔بعض حکام نے اس امکان کو بھی رد نہیں کیا کہ دہشت گردوں کو اندر سے معلومات فراہم کی گئی ہوں اس پہلو
کی مکمل تفتیش ضروری ہے۔رواں سال دہشت گردی کے واقعات کی تعداد بہت زیادہ رہی ہے؛ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سب سے
زیادہ متاثر رہے ہیں۔ایک تخمینے کے مطابق ستمبر تک 950 سے زائد حملوں میں 2,400 سے زیادہ افراد جان سے جا چکے تھے۔ اگر اس
خطرناک رجحان کا رخ پلٹنا ہے تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل بیٹھ کر مؤثر انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی ترتیب دینا ہوگی۔افغان طالبان
پر یہ شبہ اب تقویت پکڑ رہاہے کہ وہ بعض شدت پسند عناصر کی پشت پناہی کر رہے ہیں، یہ معاملہ کابل سے بہتر تعلقات کے سامنے سب سے
بڑی رکاوٹ ہے، اور پاکستان کو سرحد پار دہشت گردی روکنے کے لیے افغان حکام پر دباؤ جاری رکھنا چاہیے۔ مگر ہمیں صرف دوسروں کے
قدم اٹھانے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے اپنی سیکورٹی صلاحیتیں اور بارڈر مینجمنٹ مضبوط کرنا ضروری ہے۔ عسکری و سول اداروں کو مل کر قبل اس کے کہ یہ مزید خون بہائے اس دہشت گردی کے عفریت کو ختم کرنا ہوگا۔
٭٭٭