data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر) الخدمت کراچی کے تحت جامعہ کراچی کے تعاون سے قدرتی آفات سے بچاؤ کیعالمی دن کی مناسبت سے جامعہ کراچی میں سیمینارکا اہتمام کیا گیا،جس میں ماہرین نے پاکستان میں بڑھتے ہوئی قدرتی آفات اور ان کے اثرات میں کمی کے لیے پیشگی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ موسمیاتی تغیرات کے باعث پاکستان کو قدرتی آفات اور چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے سائنسی تحقیق اور عوامی آگاہی نہایت ضروری ہے۔سیمینار میں ڈین فیکلٹی آف سائنس پروفیسر ڈاکٹر مسرت جہاں، ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمنٹل اسٹڈیز ڈاکٹر فرّخ نواز، اسٹوڈنٹ ایڈوائزر ڈاکٹر وقار احمد اور الخدمت کراچی کے سینئر منیجر ڈیزاسٹر مینجمنٹ سرفراز شیخ بھی موجود تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر خالدعراقی نے کہا کہ جامعہ کراچی تحقیق اور تعلیم کے ذریعے معاشرے میں ذمہ دارانہ رویے کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر الخدمت کراچی، راشد قریشی نے کہا کہ قدرتی آفات کو روکنا ممکن نہیں تاہم کہ سائنس و ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی کے نتیجے میں آج ہمیں موسمی تغیرات اور زلزلوں سے متعلق پیشگی اطلاعات مل جاتی ہیں،ایسے میں ہم ان کی شدت میں کمی کیلئے پیشگی اقدامات کر سکتے ہیں تاکہ نقصانات کم سے کم ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے دوران الخدمت نے مثالی کام کیے،اس کیلئے الخدمت کا شعبہ والنٹیر مینجمنٹ باقاعدگی سے رضاکاروں کو تربیت دے رہا ہے۔ تقریب میں وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی و دیگر مہمانوں کو الخدمت کی جانب سے یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔ سیمینار کے اختتام پر ایک آگاہی واک کا بھی اہتمام کیا گیا، جس کا مقصد کمیونٹی میں پیشگی تیاری اور احتیاطی اقدامات کے ذریعے قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کا شعور اجاگر کرنا تھا۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پروفیسر ڈاکٹر جامعہ کراچی قدرتی ا فات نے کہا کہ

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار