مودی سرکار کے زخم تازہ ہو گئے، ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ میں 7 طیارے گرنے کا پھر ذکر کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک موقع پر ایٹمی جنگ چھڑنے والی تھی، جسے انہوں نے اپنی سفارتی کوششوں سے روکا۔
ٹرمپ نے بھارت کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت جنگ میں 7 طیارے گرائے گئے تھے اور وزیراعظم شہباز شریف نے مجھے کہا کہ آپ نے لاکھوں زندگیاں بچا لیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ دنیا بھر میں اب تک 8 جنگیں رکوا چکے ہیں اور ان میں سے کئی جنگیں بظاہر معمولی اختلافات سے شروع ہونے جا رہی تھیں لیکن نتائج تباہ کن ہو سکتے تھے۔
ان کے بقول بھارت اور پاکستان جیسے جوہری طاقتوں کے درمیان ممکنہ جنگ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو کے دوران بھارت پر بھی تنقید کی اور انکشاف کیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے روس سے تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
ٹرمپ نے کہا کہ میں خوش نہیں تھا کہ بھارت روس سے تیل خرید رہا ہے مگر اب یہ معاملہ طے ہو چکا ہے۔
امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کے حالات پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ اگر حماس جنگ بندی کے معاہدے پر عمل نہ کرے تو اسے غیر مسلح کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے امریکی فوج کی ضرورت نہیں پڑے گی، حماس کو ایران کی حمایت حاصل تھی لیکن اب اس نے بھی ہاتھ اٹھا لیے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششیں جاری رکھیں گے اور چین کے ساتھ جاری تجارتی جنگ کو امریکی مفادات کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ محکمہ انصاف نے ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کیں۔
ان کا دعویٰ تھا کہ میرے بیٹے ایرک ٹرمپ کو بار بار تحقیقات کے لیے سمن کیا گیا اسپیکر نینسی پلوسی تو میرے بیٹے کو عمر قید کی سزا دینا چاہتی تھیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ٹیرف کے دفاع میں سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑ رہے ہیں کیونکہ یہ امریکی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہیں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ 6 جنگوں کو صرف ٹیرف لگا کر روک چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹرمپ نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔