پاکستان، کویت مضبوط تجارتی تعلقات علاقائی اقتصادی ترقی کی کلید ہیں، سردارطاہرمحمود
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اکتوبر2025ء) پاکستان اور کویت، دوستی اور باہمی تعاون کے تاریخی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، کویت میں 11 سے 13 دسمبر 2025 کو منعقد ہونے والی کویت-پاکستان بزنس ایکسپو 2025 دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے کویت پاکستان بزنس ایکسپو 2025 کی آرگنائزنگ کمیٹی کے دورہ پر آئے ہوئے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان دہائیوں پر محیط اقتصادی تعلقات باہمی اعتماد اور تعاون کے مظہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کویت نے ہمیشہ ضرورت کے وقت پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور دونوں ممالک نے دفاع، سرمایہ کاری اور صحت کے شعبوں میں کئی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔(جاری ہے)
سردار طاہر محمود نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات کو مواقعوں میں تبدیل کرنے کے لیے مشترکہ منصوبوں اور شراکت داریوں کو فعال طور پر تلاش کرنا چاہیے۔
انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ کویت پاکستان بزنس ایکسپو 2025 تجارتی تنوع، صنعتی تعاون اور اقتصادی ترقی کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ مضبوط شراکت داری اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے دونوں ممالک متوازن تجارتی تعلقات کو فروغ دے سکتے ہیں۔کویتی وفد کے سربراہ محمد سلیم انصاری نے ڈاکٹر ایس سام کے ہمراہ کہا کہ یہ ایکسپو پاکستانی تاجروں کے لیے اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے اور خلیجی منڈی میں اپنے قدم جمانے کا ایک سنہری موقع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپو کا مقصد ایک عالمی سطح کا نمائشی پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جو پاکستانی کاروباری اداروں اور کویتی مارکیٹوں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور شراکت داری کو فروغ دے گا۔اپنے شکریہ کے ووٹ میں، ICCI کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے پاکستان اور کویت کے درمیان مضبوط تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے چیمبر کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آئی سی سی آئی اپنے وسیع مواصلات اور کاروباری نیٹ ورک کے ذریعے ایونٹ کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اس اقدام کو پاکستانی سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے لیے کویت اور پورے خطے میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ طویل مدتی روابط استوار کرنے کے لیے ایک مثالی پلیٹ فارم کے طور پر سراہا۔اس موقع پر نائب صدر محمد عرفان چوہدری، ایگزیکٹو ممبران ملک عقیل احمد، عمران منہاس، آئی سی سی آئی کے ممبر اسرار الحق مشوانی اور دیگربھینموجودنتھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری اور کویت کو فروغ کے لیے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔