سابق سینیٹر مشتاق احمد نے تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
سابق سینیٹر مشتاق احمد نے تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی WhatsAppFacebookTwitter 0 18 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت نے اسلام آباد میں سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفدکی سربراہی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کر رہے تھے۔اعلامیے کے مطابق وفد نے عالمی صمود فلوٹیلا کا حصہ بننے پر سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو مبارک باد دی اور انہیں تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شمولیت کی دعوت دی۔اعلامیے کے مطابق سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے اپوزیشن اتحاد میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان اپوزیشن اتحاد میں شمولیت کا جلد اعلان کریں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرہماری پالیسی بڑی واضح ہے اگر کوئی حملہ کریگا تو ادھار نہیں رکھیں گے، رانا ثنا اللہ ہماری پالیسی بڑی واضح ہے اگر کوئی حملہ کریگا تو ادھار نہیں رکھیں گے، رانا ثنا اللہ اسلامو فوبیا، ایک اور یورپی ملک میں نقاب پر پابندی عائد، سزائیں ، جرمانے کا فیصلہ تحفظات سے وفاق کو آگاہ کردیا، کراچی کیلئے کام کیا جائے تو خوش ہونگے، بلاول بھٹو افغانستان سے کشیدگی نہیں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کیخلاف کارروائی چاہتے ہیں ،پاکستان دو دنوں میں خوارج گل بہادر گروپ کے 100سے زائد دہشتگرد ہلاک ہوچکے ، عطا اللہ تارڑ شمالی وزیرستان، فتن الخوارج کی خود کش حملے کی کوشش ناکام، 4دہشتگرد ہلاکCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سابق سینیٹر مشتاق احمد خان
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔