پاک آرمی اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی مشترکہ فوجی مشق ’’وارئیر- IX‘‘ کا باقاعدہ آغاز
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
پاک فوج اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے مشترکہ فوجی مشق ’’وارئیر- IX‘‘ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ دو طرفہ (پاک چین) سالانہ انسدادِ دہشت گردی مشقوں کا نواں ایڈیشن ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری کی مضبوط روایت کا تسلسل ہے۔مشق کا باضابطہ آغاز یکم دسمبر 2025 کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی میں ہوا، جہاں دونوں ممالک کے سینئر عسکری حکام نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ منگلا کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نعمان زکریا، چین کی ویسٹرن تھیٹر کمانڈ کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف میجر جنرل بیان شیاؤمِنگ تقریب میں موجود تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس سال وارئیر-IX کا بنیادی فوکس کاؤنٹر ٹیررازم آپریشنز ہیں، جس کے دوران پاک چین افواج کے درمیان ربط اور ہم آہنگی میں اضافہ، جدید جنگی مہارتوں کو نکھارنا، پروفیشنل صلاحیتوں کی بہتری اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق بہترین طریقہ کار کا تبادلہ ہے۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون باہمی اعتماد پر مبنی دہائیوں پر محیط اسٹریٹجک شراکت داری کا حصہ ہے۔ مشترکہ مشق وارئیر-IX دونوں ممالک کے مضبوط ملٹری ٹو ملٹری تعلقات اور خطے میں امن و استحکام کے مشترکہ عزم کی واضح مثال ہے۔ مشق کے آئندہ دنوں میں مختلف کاؤنٹر ٹیررازم ڈرلز اور مربوط آپریشنز کیے جائیں گے، جن کا مقصد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید تقویت دینا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔