لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 اکتوبر2025ء) صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات سات دہائیوں پر محیط ایک لازوال دوستی کی مثال ہیں، جو محض سفارتی یا تجارتی رشتے تک محدود نہیں بلکہ عوامی فلاح، ترقی، امن اور باہمی محبت کی بنیاد پر استوار ہیں۔ پاکستان بالخصوص پنجاب کو خطے میں علاقائی تجارت کا مرکز بنانے میں چین کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں ایکسپو سینٹر میں پاک چین جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام پاک-چائنا لو فیسٹیول ٹریڈ ایکسپو میں بطورمہمان خصوصی شرکت کے دوران کیا۔ ایکسپو میں چینی قونصل جنرل لاہور ژا شیرن، پارلیمیٹیرینز، سرمایہ کار اور تاجران شریک تھے۔

(جاری ہے)

وزیر خزانہ پنجاب اور چینی قونصل جنرل نے فیتہ کاٹ کر فیسٹیول کا باضابطہ افتتاح کیا۔

وزیر خزانہ نے شرکا کو بتایا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت چین کے ساتھ اقتصادی و تجارتی تعلقات کو نئی جہت دے رہی ہے۔ دوست ملک کے سرمایہ کاروں کو زراعت، صنعت، شہری ترقی، توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں شراکت داری کے مواقع مہیا کیے جا رہے ہیں تاکہ صوبہ پنجاب کو علاقائی تجارت کا مرکز بنایا جا سکے۔وزیر خزانہ نے پاک-چائنا جوائنٹ چیمبر آف کامرس کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ''پاک-چائنا لو فیسٹیول'' دوستی، اعتماد اور ثقافتی ربط کو فروغ دینے کی شاندار مثال ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تجارتی نمائش کے ساتھ ثقافتی سرگرمیوں کا امتزاج عوامی سطح پر تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔فیسٹیول میں 100 سے زائد سٹالز لگائے گئے جن میں چائنا اور پاکستان کے اشتراک سے چلنے والی پروڈکٹس، گھریلو سامان کپڑوں، جوتوں، زیورات اور کاسمیٹکس سمیت مختلف اشیا رکھی گئیں تھیں۔ وزیر خزانہ پنجاب نے سٹالز کا معائنہ کیا اور مقامی و چینی سرمایہ کاروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مستقبل میں پنجاب میں سرمایہ کاری میں مزید اضافے کی امید ظاہر کی۔

تقریب میں رنگا رنگ ثقافتی پرفارمنسز کا بھی اہتمام کیا گیا جبکہ پاکستانی اور چینی کھانوں کے سٹالز شہریوں کی دلچسپی کو دوبالا کر تے رہے۔ وزیر خزانہ نے زندہ دلانِ لاہور سے اپیل کی کہ وہ اس فیسٹیول میں بھرپور شرکت کر کے پاک-چائنا دوستی کو مزید مضبوط کریں۔ نمائش ایکسپو سینٹر لاہور میں کل بھی جاری رہے گی۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاک چائنا اور چین

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ  کے وژنری  اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ  نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز  نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔  ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز  کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔  رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی