وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات،تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
وقاص عظیم: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں سعودی وزیر خزانہ محمد عبداللہ عبدالعزيز الجدعان سے ملاقات کی۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارتی تعلقات اور نجی سرمایہ کاری پر گفتگو ہوئی، آئی ایف سی اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی کے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سعودی ہم منصب کو قومی ایئر لائن اور ہوائی اڈوں کی نجکاری پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ محمد اورنگزیب نے پاکستان میں انفراسٹرکچر منصوبوں کیلئے سعودی حمایت کی خواہش کا اظہار کیا۔
آغا سراج درانی کی وفات پر ملک میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس موقع پر یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت جاری اصلاحاتی ایجنڈے پر ثابت قدمی سے عمل پیرا ہے اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم کرنے کیلئے حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
دونوں وزرائے خزانہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات صرف روایتی دوستی تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک اقتصادی شراکت داری کے وسیع امکانات موجود ہیں، جنہیں مزید وسعت دی جائے گی۔
کوئلہ، لکڑی یا چارکول استعمال کرنے والے ریسٹورنٹس پر پابندی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب محمد اورنگزیب نے
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔