پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی کی اندرونی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان 48 گھنٹوں کی عارضی جنگ بندی افغان طالبان کی درخواست پر عمل میں آئی۔ طالبان نے یہ اپیل نہ صرف براہِ راست بلکہ قطر اور سعودی عرب کے ذریعے بھی کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان نے رابطہ کیا، جس کے بعد مذاکرات کے نتیجے میں مختصر مدت کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ اس عمل میں سعودی عرب اور قطر نے ثالثی کا اہم کردار ادا کیا، جنہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں مرکزی کردار نبھایا۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعمیری بات چیت جاری ہے، اور کوشش کی جا رہی ہے کہ مسئلے کا کوئی دیرپا اور مثبت حل تلاش کیا جا سکے۔
دوسری جانب، سرحدی کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف سرحدی علاقوں میں مؤثر عسکری کارروائیاں کی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق، اسپن بولدک، نوشکی، چمن، ژوب اور کرم میں افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔
فوجی ذرائع کے مطابق، قندھار میں کی گئی پریسیژن اسٹرائکس کے نتیجے میں افغان طالبان کی بٹالین نمبر 4 اور 8 جبکہ بارڈر بریگیڈ نمبر 5 اور 6 کو شدید نقصان پہنچا۔ ان کارروائیوں میں بھاری توپ خانہ اور مارٹر گولے استعمال کیے گئے۔
مزید اطلاعات کے مطابق، نوشکی سیکٹر میں افغان سرحد کے اندر تقریباً 3 کلومیٹر دور واقع غرنالی چیک پوسٹ کو طالبان نے خالی کر دیا اور وہاں پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا۔ چمن اور ژوب سیکٹرز میں بھی دہشتگردوں کی پناہ گاہیں اور چیک پوسٹس تباہ کر دی گئیں۔ اسپن بولدک کے علاقوں میں جوابی کارروائی کے دوران 15 سے 20 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
یہ تمام اقدامات پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے کیے گئے، جبکہ مستقبل میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

.

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: افغان طالبان کے درمیان طالبان نے کے مطابق

پڑھیں:

سوشل میڈیا پرعمران خان بارے فیک نیوز، افواہیں انتہائی خطرناک ہیں، دفترخارجہ

 

اسلام آباد(نیوزڈیسک) دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر سابق وزیر اعظم عمران خان کے حوالے سے فیک نیوز اور افواہیں انتہائی خطرناک ہیں، بھارتی سائبر ڈومین پاکستان کے حوالے سے مختلف شعبوں میں فیک نیوز اور افواہیں پھیلانے میں مصروف ہے۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ اب افغان سوشل میڈیا اکاونٹس بھی بھارت کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں، بدقسمتی ہے اس حوالے سے متعدد بھارتی مین اسٹریم نیوز آرگنائزیشن اور بھارتی صحافی بھی شامل ہیں۔

عمران خان کی زندگی کے حوالے سے وزیر داخلہ نے گذشتہ روز بیان دیا تھا، اُن کا بیان تمام افواہوں کا خاتمہ کرتا ہے، سربراہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صحت کے حوالے سے متعلقہ وزارت بہتر بتا سکتی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا پاک-افغان طالبان جنگ بندی کے سوال پر جواب دیتے ہوئےکہا کہ جنگ بندی روایتی جنگ بندی کے معنی میں نہیں، اس جنگ بندی کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان کی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے پاکستان پر کوئی حملہ نہیں ہونا چاہیے۔تاہم دوسری جانب پاکستان میں بڑے دہشت گرد حملے کیے گئے، اگر صورتحال کو دیکھا جائے تو جنگ بندی کا پاس نہیں رکھا جا رہا، افغان شہری اور ان کے گروہ حملے کر رہے ہیں، اس وجہ سے ہم جنگ بندی کے حوالے سے زیادہ پُرامید نہیں ہو سکتے، پوری طرح چوکس ہیں اور ہماری عسکری تیاری مضبوط ہے، ترکیہ وفد کا دورہ پاکستان ابھی بھی پائپ لائن میں ہے۔

طاہر انداربی کا مزید کہنا تھا کہ دستاویز کے باوجود بیرون ممالک جانے والے مسافروں کو ایئرپورٹ پر آف لوڈ کرنے کی حوالے سے متعلقہ ممالک نے کوئی درخواست نہیں کی، اس معاملے پر وزارت داخلہ سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان حکام دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج
  • افغان طالبان  دہشت گردوں کے سہولت  کار : ڈی  جی آئی ایس پی آر 
  • دہشت گردی اور افغانستان
  • سفارتی روابط میں کمی سے ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ جاتی ہے، سابق وزیرخارجہ
  • افغان طالبان ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • سوشل میڈیا پرعمران خان بارے فیک نیوز، افواہیں انتہائی خطرناک ہیں، دفترخارجہ
  • سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان فوجی تعاون کے لیے رابطے
  • ’’بلڈ اینڈ بزنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے ‘‘
  • وائٹ ہاوس پر فائرنگ، افغان طالبان رجیم پوری دنیا کے امن کیلئے سنگین خطرہ بن گئی
  • وائٹ ہاؤس پر فائرنگ کا واقعہ؛ افغان طالبان رجیم  پوری دنیا کے امن کےلیے سنگین خطرہ