افغان طالبان نے جنگ بندی کی اپیل قطر اور سعودی عرب کے ذریعے کی: ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی کی اندرونی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان 48 گھنٹوں کی عارضی جنگ بندی افغان طالبان کی درخواست پر عمل میں آئی۔ طالبان نے یہ اپیل نہ صرف براہِ راست بلکہ قطر اور سعودی عرب کے ذریعے بھی کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان نے رابطہ کیا، جس کے بعد مذاکرات کے نتیجے میں مختصر مدت کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ اس عمل میں سعودی عرب اور قطر نے ثالثی کا اہم کردار ادا کیا، جنہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں مرکزی کردار نبھایا۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعمیری بات چیت جاری ہے، اور کوشش کی جا رہی ہے کہ مسئلے کا کوئی دیرپا اور مثبت حل تلاش کیا جا سکے۔
دوسری جانب، سرحدی کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف سرحدی علاقوں میں مؤثر عسکری کارروائیاں کی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق، اسپن بولدک، نوشکی، چمن، ژوب اور کرم میں افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔
فوجی ذرائع کے مطابق، قندھار میں کی گئی پریسیژن اسٹرائکس کے نتیجے میں افغان طالبان کی بٹالین نمبر 4 اور 8 جبکہ بارڈر بریگیڈ نمبر 5 اور 6 کو شدید نقصان پہنچا۔ ان کارروائیوں میں بھاری توپ خانہ اور مارٹر گولے استعمال کیے گئے۔
مزید اطلاعات کے مطابق، نوشکی سیکٹر میں افغان سرحد کے اندر تقریباً 3 کلومیٹر دور واقع غرنالی چیک پوسٹ کو طالبان نے خالی کر دیا اور وہاں پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا۔ چمن اور ژوب سیکٹرز میں بھی دہشتگردوں کی پناہ گاہیں اور چیک پوسٹس تباہ کر دی گئیں۔ اسپن بولدک کے علاقوں میں جوابی کارروائی کے دوران 15 سے 20 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
یہ تمام اقدامات پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے کیے گئے، جبکہ مستقبل میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: افغان طالبان کے درمیان طالبان نے کے مطابق
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین