سہیل آفریدی وزیراعلیٰ مقرر نوٹیفکیشن جاری، نئی کابینہ کا اعلان بھی کردیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
پشاور:۔ محمد سہیل آفریدی وزیراعلیٰ مقرر ہو گئے، خیبرپختونخوا حکومت نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ حکومتِ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق محمد سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدام آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 130(5) کے تحت کیا گیا، جس کے بعد محمد سہیل آفریدی نے 15 اکتوبر 2025ءکو گورنر خیبرپختونخوا کے سامنے حلف اٹھایا اور باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔انتظامی امور کے تحت نوٹیفکیشن کی کاپیاں صدرِ پاکستان، وزیراعظم، تمام صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو ارسال کر دی گئی ہیں۔
علاوہ ازیں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کا اعلان کردیا۔ صوبائی کابینہ میں عاقب اللہ خان وزیر بلدیات، شکیل خان وزیر سیاحت، مینا خان آفریدی صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، آفتاب عالم آفریدی وزیر قانون، ارشد ایوب خان وزیر مواصلات، فضل حکیم خان وزیر زراعت، محمد سجاد وزیر پبلک ہیلتھ، خلیق الرحمان وزیر آبپاشی، فیصل تراک وزیر تعلیم، فضل شکور خان صوبائی وزیر خوراک، محمد عدنان قادری وزیر مذہبی امور اور فخر جہاں کو صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ کا قلمدان سونپا گیا ہے۔
جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر وں میںشوکت یوسفزئی مشیر اطلاعات، تیمور سلیم جگڑا مشیر برائے صحت، مزمل اسلم مشیر برائے خزانہ، کامران بنگش مشیر برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن، عرفان سلیم مشیر برائے کھیل اور عائشہ بانوکو مشیر برائے عشرو زکوٰة سوشل ویلفیئر مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پختونخوا کے معاون خصوصی میں احتشام خان معاون خصوصی برائے جنگلات، عبدالکریم خان معاون خصوصی برائے صنعت، ظاہر شاہ طورمعاون خصوصی برائے جیل خانہ جات اور قاسم علی شاہ کو وزیراعلیٰ کا معاون خصوصی برائے دیہی آبادی ومحنت مقرر کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: معاون خصوصی برائے سہیل آفریدی
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :