چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کے پی سے ملنے سے انکار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی سے ملنے سے انکار کردیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق رات بھر اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دینے کے بعد وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے مگر ان کی چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے ملاقات نہیں ہوسکی۔
چیف جسٹس سے ملاقات نہ ہونے پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، علیمہ خان اور وکلاچیف جسٹس کے سیکرٹری کے آفس سے واپس روانہ ہوگئے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ہماری شنوائی نہیں ہوئی، ہمیں چیف جسٹس کی طرف سے پیغام ملا کہ میں آپ سےنہیں مل سکتا۔
پاکستان نے افغانستان سے تاجکستان سرحد پر چینی شہریوں پرحملہ بزدلانہ فعل قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ ہم نےفیصلہ کیاہے آج نہ قومی اسمبلی نہ سینیٹ اجلاس چلنے دیں گے جب کہ آئندہ منگل کوہائیکورٹ کے باہربھی اور اڈیالہ جیل کے باہربھی اکٹھےہوں گے۔
اس حوالے سےنجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کے پی سے ملنےسےانکارکردیا ہے، چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ کسی سے ملاقات نہیں کررہے۔
انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس نے نہ تو ایڈووکیٹ جنرل اور نہ کسی وکیل سے ملاقات کی۔
شہر کی فضا بدستور آلودہ،سول سیکرٹریٹ میں آلودگی کی شرح خطرناک حد سے تجاوز کر گئی
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: چیف جسٹس اسلام سے ملاقات
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز