ٹی ایل پی کے گرفتار کارکنان و قائدین کو رہا اور سیل کی گئی مساجد دوبارہ کھولی جائیں، تنظیمات اہل سنت
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
تنظیمات اہل سنت پاکستان کے قائدین نے ٹی ایل پی کے کارکنان کی فوری رہائی اور سیل کی گئی مساجد و مدارس کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور میں تنظیماتِ اہلِ سنت پاکستان کے قائدین کا ہنگامی اجلاس پیر آف مانکی شریف پیرزادہ محمد امین قادری کی صدارت میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں قائدین نے مطالبہ کیا کہ سانحہ مریدکے پر عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے جبکہ تحریکِ لبیک اور تنظیمات اہلسنت کے بے گناہ کارکنان و قائدین کو فوری رہا کیا جائے۔
اجلاس میں اہلِ سنت کی مساجد و مدارس کو نشانے کی مذمت کی گئی جبکہ شرکا نے مینارٹی ایکٹ 2025 اور نیشنل کمیشن فار مینارٹیز کو مسترد کردیا۔
موجودہ صورت حال کے پیش نظر تنظیمات اہل سنت پاکستان نے مرکزی شوریٰ کا اجلاس 25 اکتوبر کو لاہور میں طلب کرلیا۔
ہنگامی اجلاس کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں ملی یکجہتی کونسل اور جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کے سربراہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر الوری اور سابق وفاقی وزیر مذہبی امور سید حامد سعید کاظمی، میاں عبد الخالق بھرچونڈی شریف، سابق ممبر قومی اسمبلی میاں جلیل احمد شرقپوری نے شرکت کی۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تحریک لبیک اور تنظیماتِ اہلِ سنت کے بے گناہ قائدین و کارکنان کو فی الفور رہا کیا جائے، تحریک لبیک کے خلاف ریاستی آپریشن کو جواز بنا کر اہلِ سنت کی مساجد،مدارس اور خانقاہوں کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت اگر مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے تو اہلِ سنت کے حقیقی نمائندوں سے رابطہ کرے، سیل کی گئی مساجد،مدارس اور خانقاہوں کو فوری طور پر کھولا جائے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ۔فتنۂ الخوارج اور فتنۂ الہندوستان کے خلاف آپریشن سے پیدا شدہ داخلی انتشار ختم کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تنظیمات اہل کی گئی
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔