پاک سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کو لینے نہیں دیں گے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایبٹ آباد: آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاک سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کو لینے نہیں دیں گے۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری) اور ہلالِ جرات نے قوم کو یقین دلایا کہ وطنِ عزیز کی ایک انچ زمین بھی دشمن کے حوالے نہیں ہونے دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے ہمیشہ ملک کے دفاع اور استحکام کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔
اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ کرنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے بنگلا دیش، عراق، مالی، مالدیپ، نائیجیریا، نیپال، فلسطین، قطر، سری لنکا اور یمن سے تعلق رکھنے والے کیڈٹس کو تربیت مکمل کرنے پر مبارکباد پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان سے آج تک افواجِ پاکستان نے قوم کی مکمل حمایت کے ساتھ ملکی دفاع کو مضبوط بنایا ہے۔ حالیہ آپریشن ’’معرکۂ حق / بنیان مرصوص‘‘ میں پاکستانی فوج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور قربانیوں سے دشمن کو شکست دی اور قوم کا اعتماد مزید مستحکم کیا۔
فیلڈ مارشل نے بتایا کہ ازلی دشمن کے خلاف پیشہ ورانہ کارروائیوں میں رافیل طیاروں کو مار گرایا گیا، دشمن کے متعدد بیسز سمیت ایس-400 دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس آپریشن کے دوران اپنی “ملٹی ڈومین وارفیئر” صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا جس سے دنیا نے پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ برتری کو تسلیم کیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے روایتی طور پر الزام تراشی کا سہارا لیا اور غیر جانبدار تحقیقات سے گریز کیا جب کہ جعلی شواہد پیش کر کے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ پاکستان نے عددی لحاظ سے بڑے دشمن پر واضح فتح حاصل کر کے نہ صرف عوام بلکہ عالمی برادری کا اعتماد بھی جیتا۔
آرمی چیف سید عاصم منیر نے کہا کہ یہ کامیابی نوجوان نسل کے لیے باعثِ فخر ہے اور انہیں یقین دلاتی ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج قومی طاقت کا مضبوط ستون ہیں۔
انہوں نے قوم، شہدا، غازیوں، سپاہیوں، فضائیہ کے جوانوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو سلامِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے وطن کے دفاع میں قربانیاں دیں۔
اختتام پر انہوں نے کہا کہ قومی قیادت، بیوروکریسی، علما، سائنسدان، میڈیا اور تعلیمی شعبے کے افراد بھی خراجِ تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے مشکل حالات میں قوم کے حوصلے کو بلند رکھا۔ فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ پاکستان ایک فولادی قوم ہے اور اس کی سرزمین کا دفاع ایمان، عزم اور یکجہتی سے ہمیشہ یقینی بنایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کہ پاکستان
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔