کراچی (کامرس رپورٹر) بینک دولت پاکستان نے سالانہ رپورٹ برائے مالی سال 25ء جاری کردی۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 25ء  میں پاکستان کی میکرو اکنامک صورت حال میں مزید بہتری آئی جسے محتاط زری پالیسی اور پائیدار مالیاتی یکجائی نے مدد دی اور جس کے نتیجے میں قومی صارف اشاریہ قیمت مہنگائی تیزی سے کم ہوئی۔ نیز، مالی نظام نے مضبوطی برقرار رکھی اور حقیقی جی ڈی پی نمو پہلے سے زائد رہی۔ واضح رہے کہ گورنر کی سالانہ رپورٹ ایس بی پی ایکٹ 1956ء کی دفعہ  (1) 39  (جنوری 2022ء تک ترمیم شدہ) کے تحت شائع کی جاتی ہے۔ اس دفعہ کے تحت گورنر  ’’بینک کے اہداف کے حصول، زری پالیسی کے طرزعمل، پاکستان کی معیشت اور مالی نظام کی کیفیت سے متعلق سالانہ رپورٹ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ملاحظے کے لیے پیش کریں گے۔‘‘ رپورٹ کے مطابق مہنگائی میں کمی کے جس رجحان کا آغاز مالی سال 24ء  میں ہوا تھا، مالی سال 25ء  کے دوران وہ مزید زور پکڑ گیا۔ غذائی مہنگائی میں آئی، کیونکہ ملکی مارکیٹ میں غذائی اجناس کی دستیابی بہتری ہو گئی تھی  اور غذائی اشیاء کی عالمی قیمتیں کم رہی تھیں۔ توانائی کی مہنگائی میں بھی خاصی کمی واقع ہوئی جسے تیل کی عالمی قیمتوں میں  کمی کے علاوہ توانائی کے سرکاری نرخ کم ہونے سے فائدہ پہنچا۔ قوزی مہنگائی تقریباً نصف رہ گئی، جو محدود ملکی طلب اور مہنگائی کی توقعات کے قابو میں رہنے کے ساتھ ساتھ اس بات کی عکاس ہے کہ غذائی اور توانائی کی قیمتوں کو گذشتہ برس لگنے والے دھچکوں کے دور ثانی کے اثرات کی شدت کم ہوگئی۔ تاہم مالی سال 25ء کی دوسری ششماہی میں قوزی مہنگائی کے جمود، بڑھتے ہوئے عالمی تجارتی ٹیرف، جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی میں اضافے اور توانائی کی سرکاری قیمتوں میں تغیر پذیری (volatility) سے پیدا ہونے والی بے یقینی کو دیکھتے ہوئے زری پالیسی کمیٹی نے مالی سال 25ء کی دوسری ششماہی میں زری نرمی کی رفتار کو سست کر دیا۔ رپورٹ میں بالخصوص، ایکسچینج کمپنیوں میں اصلاحات اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافے کے لیے ہونے والے انتظامی اقدامات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ  مالی تعلیم کے قومی روڈمیپ 2025-29ء ، ’’برابری پر بینکاری‘‘  پالیسی پر عمل درآمد میں تسلسل، اور اسلامی بینکاری، زراعت، اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی مالی معاونت جیسے بہدف اقدامات، مالی سال 25ء  میں مالی شمولیت کے مزید فروغ میں معاون ثابت ہوئے۔ ٹیکس اور کسٹمز ٹیرف میں اصلاحات، زرعی اجناس کی منڈی کی ڈی ریگولیشن ، اور بلا ہدف سبسڈیوں کے بتدریج خاتمے جیسی حالیہ اصلاحات کا اعتراف کرتے ہوئے رپورٹ میں زور دیا گیا کہ ساختی اور نظم و نسق سے متعلق اصلاحات پر ثابت قدمی کے ساتھ عملدرآمد ضروری ہے تاکہ قیمتوں اور مالی استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔ عالمی تجارتی ٹیرف پالیسی میں 2025ء کے دوران  تبدیلیوں، اور ملک میں 2025 ء کے سیلاب سے پیدا ہونے والے چیلنجوں کی نشاندہی کرتے ہوئے گورنر کی سالانہ رپورٹ مالی سال  25ء  میں یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ سٹیٹ بینک مستعد ہے، ابھرتے ہوئے ان خطرات کی باریک بینی سے نگرانی کر رہا ہے اور اپنے پالیسی فیصلوں میں انہیں ملحوظ رکھ رہا ہے تاکہ قیمتوں اور مالی استحکام کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ یہ دونوں عناصر پائیدار اقتصادی نمو کے لیے ناگزیر ہیں۔ بینک دولت پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے واشنگٹن ڈی سی میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے 13 سے 18 اکتوبر 2025ء  کے دوران جاری سالانہ اجلاسوں  کے موقع پر عالمی  مالی  اداروں اور سرمایہ کار اداروں بشمول جے پی مورگن،  سٹینڈرڈ چارٹرڈ ، جیفریز، بارکلیز، سٹی بینک، بینک آف امریکہ سیکورٹیز، اور کریڈٹ ریٹنگ کی اہم ایجنسیوں کے سینئر ایگزیکٹوز سے ملاقاتوں میں پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے اقتصادی منظر نامے کو اجاگر کیا۔  گورنر نے معیشت کو مستحکم کرنے میں پاکستان کی نمایاں پیش رفت سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ  محتاط زری  پالیسی کے ساتھ ساتھ مالیاتی  یکجائی (consolidation)کی پائیدار کوششوں کے نتیجے میں پاکستان میں میکرو اکنامک استحکام آ گیا ہے۔ ماحول اب اگلے مرحلے کے لیے بالکل تیار ہے جو سرمایہ کاری اور معاشی نمو کی بحالی کا ہے۔ جمیل احمد نے اس بات کو اجاگر کیا کہ  گذشتہ دو برسوں میں عمومی مہنگائی تیزی سے کم ہو کر ستمبر 2025ء  میں 5.

6 فیصد پر آ چکی ہے۔ اگلے مہینوں کے دوران اس میں مزید کمی کی توقع ہے۔ حالیہ سیلابوں  کے باوجود عمومی مہنگائی درمیانی مدت میں 5 تا 7 فیصد ہدف کی حد  پر مستحکم رہنے کی توقع ہے۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے بفرز معیاری اور مقداری دونوں لحاظ سے خاصے بہتر ہوئے ہیں۔ انہوں نے  کہا کہ اگرچہ حالیہ سیلابوں  نے  مالی سال 26ء  کی مجموعی نمو  کے امکانات کو کچھ معتدل کر دیا ہے، تاہم مالی سال 26ء  کے دوران  حقیقی جی ڈی پی کی نمو مالی سال 25ء سے زائد یعنی 3.25 تا 4.25 فیصد کی پیش گوئی  کی حد میں رہنے کی توقع ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سالانہ رپورٹ میں پاکستان مالی سال 25ء کے دوران کے لیے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار