ایک اور یورپی ملک پرتگال کی پارلیمان نے عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بل پرتگال کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت چیگا پارٹی نے پیش کیا تھا۔ جس پر ووٹنگ کی گئی۔

حکومتی اتحاد لبرل جماعتوں اور شیگا پارٹی کے 60 اراکین نے بل کے حق میں وٹ دیا جب کہ بائیں بازو کی جماعتوں اور کمیونسٹ ارکان نے مخالفت کی۔

تاہم عددی اکثریت کے باعث یہ بل منظور کرلیا گیا جس کے بعد عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی ہوگی اور خلاف ورزی پر 200 سے 4 ہزار یورو تک جرمانہ ہوگا۔

علاوہ ازیں کسی کو زبردستی نقاب پہنانے یا مجبور کرنے پر 3 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ جس سے بچیوں کو نقاب کروانے کے خواہشمند والدین تشویش میں مبتلا ہیں۔ 

تاہم خیال رہے کہ نقاب پر پابندی صرف عوامی مقامات پر ہوگی البتہ ہوائی جہازوں، سفارتی احاطوں اور عبادت گاہوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔

واضح رہے کہ پرتگال اکیلا یورپی ملک نہیں جس نے نقاب پر پابندی عائد کی ہو۔ متعدد یورپی ممالک جیسے فرانس، آسٹریا، بیلجیئم اور ہالینڈ میں بھی کہیں مکمل تو کہیں جزوی پابندیاں ہیں۔

پارلیمان سے منظوری کے بعد اب یہ بل صدر کے پاس توثیق کے لیے جائے گا اگر مارسیلو ریبیلو ڈی سوسا بل کو ویٹو سکتے ہیں یا نظرثانی کے لیے آئینی عدالت میں بھیج سکتے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پر پابندی

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار