پنجاب میں ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں لکڑی اور کوئلہ جلانے پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ہوٹلوں اور باربی کیو پوائنٹس پر لکڑی اور کوئلہ جلانے پر پابندی عائد کر دی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔
تمام ریسٹورنٹس کو 15 دن میں دھواں جذب کرنے والے سسٹم (سکشن ہُڈز) نصب کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، بصورتِ دیگر ماحولیاتی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: پنجاب: ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ڈرون سے بھٹوں کی نگرانی کا نیا نظام نافذ
ای پی اے اور پنجاب فوڈ اتھارٹی نے مشترکہ آپریشنز شروع کر دیے ہیں، جبکہ ڈائریکٹر جنرل ای پی اے عمران حمید شیخ نے کہا کہ دھواں چھوڑنے والے ریسٹورنٹس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
مزید پڑھیں: یکم اکتوبر کو پنجاب میں فضائی معیار معتدل، اسموگ سے بچاؤ کے انتظامات جاری
فضائی معیار میں مسلسل خرابی کے باعث لاہور، گوجرانوالہ، قصور اور فیصل آباد سمیت کئی شہروں میں ایئر کوالٹی انڈیکس خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ ماہرین نے شہریوں کو غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز اور ماسک کے استعمال کی ہدایت کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسموگ باربی کیو پنجاب سموگ کوئلہ، لکڑی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسموگ باربی کیو سموگ کوئلہ لکڑی
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔