بھاری انویسٹمنٹ: قطری سرمایہ کاروں کا سندھ کے دورے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
کراچی:
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور قطری شاہی خاندان کے رکن شیخ احمد بن ثانی نے اعلیٰ سطح کی روابط میں اضافہ کرنے اور خصوصاً سندھ کے پانی اور زرعی شعبوں میں سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں وزیراعلیٰ نے شیخ احمد بن ثانی کو باضابطہ دعوت دی اور سندھ کی مضبوط معاشی صلاحیتوں اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔ اپنے معاونین کے ہمراہ آنے واے شیخ احمد نے زرعی شعبے اور پانی کے انتظام سے متعلق جدید ٹیکنالوجیز میں گہری دلچسپی ظاہر کی، ملاقات کا محور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور مستقبل کے تعاون کو فروغ دینا تھا۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے وفد کو اہم منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے کراچی کے لیے بڑے ڈیسالینیشن اور واٹر ڈسٹری بیوشن منصوبے تیار کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڑے زرعی منصوبے بھی جاری ہیں۔ ٹھٹھہ سے کشمور تک بڑے پیمانے پر زرعی منصوبے خاطر خواہ منافع فراہم کرسکتے ہیں۔
انہوں نے صوبے میں قابلِ تجدید توانائی، ایگرو پراسیسنگ، ڈیری اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی وسیع گنجائش پر بھی روشنی ڈالی۔فریقین نے اعلیٰ سطح پر رابطے جاری رکھنے اور اپنی تکنیکی ٹیموں کے درمیان فالو اپ ملاقاتیں شیڈول کرنے پر اتفاق کیا۔
شیخ احمد بن ثانی نے اعلان کیا کہ قطری سرمایہ کاروں کا ایک وفد جلد سندھ کا دورہ کرے گا تاکہ مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کو حتمی شکل دی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔