ضلع حیدرآباد میں تمباکو نوشی پر مکمل پابندی، ڈپٹی کمشنر کا سخت ایکشن
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ضلع بھر میں انسدادِ تمباکو نوشی آرڈیننس 2002 پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’ سگریٹ چھوڑ دیں‘، اردوان کی درخواست پر اطالوی وزیراعظم کا دلچسپ جواب
تمام عوامی مقامات، دفاتر، تعلیمی اداروں، اسپتالوں، ریستورانوں، بازاروں، پارکوں اور تفریحی مقامات پر تمباکو نوشی مکمل طور پر ممنوع قرار دے دی گئی ہے۔
’نو اسموکنگ‘ بورڈز کی تنصیب لازمی
اعلامیہ میں ہدایت کی گئی ہے کہ تمام سرکاری و نجی ادارے اپنی عمارتوں کے اندر اور باہر نمایاں جگہوں پر ’نو اسموکنگ‘ کے بورڈز نصب کریں۔
اسموکنگ ایریاز ختم، خلاف ورزی پر کارروائی
تمام نامزد تمباکو نوشی کے مقامات کو ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے، جب کہ قانون کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
عوام سے تعاون کی اپیل
ڈپٹی کمشنر نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ تمباکو نوشی سے پاک ماحول کے قیام میں انتظامیہ کا ساتھ دیں تاکہ عوام کی صحت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حیدرآباد سگریٹ نوشی پابندی نو اسموکنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سگریٹ نوشی پابندی نو اسموکنگ تمباکو نوشی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔